رمی جمار میں کسی کو نائب بنانا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیان ذوی الاحترام مندرجہ ذیل مسائل میں کہ : (1) حاجی رمی جمار کی وکالت عورت یا مرد بالغ و نابالغ مریض و صحت مند دوسروں کو دے سکتا ہے یا نہیں ؟ (۲) آفاقی ایام شہود میں عمرہ کر کے مدینہ طیبہ گیا، قریب حج میں تمتع کا احرام باندھا جبکہ پہلے عمرہ سے وہ متمتع ہو جاتا ہے، آیا قران کی نیت سے اس کا احرام حج صحیح ہوگا ؟ (۳) حاجی عمرہ میں تمام ارکان پورے کرنے کے بعد حلق کرواتا ہے اور حج کے بعد تقصیر کرتا ہے، جبکہ تقصیر کے لئے یہ حکم ہے کہ جو تہائی سر سے پورے برابر بال کاٹے جائیں عمرہ کے حلق میں تو بال منڈوا دیے، اب بال نہیں رہے تو تقصیر کیسے ہوگی ؟ تو ایسے حاجی کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ بینوا توجروا المستفتی: محمد امانت رسول رضوی، محلہ بھورے خاں، پیلی بھیت
الجواب: (1) رمی جمار میں نیابت کا مسئلہ نظر سے نہ گزرا اور اس کی حاجت بھی نہیں، صحتمند کے لئے تو عدم حاجت ظاہر اور ضعیف و ناتواں صبح یا شب میں جب میسر ہور می کی اجازت بے کراہت۔ رد المحتار میں ہے: فلا اساءة بر مى الضعفة قبل الشمس ولا برمى الرعاة ليلا كما فى الفتح اهـ . اور جب حاجت نہیں اور رمی پر قدرت متحقق تو نیابت کا کیا سوال کہ حج میں نیابت کی شرط عجز دائم ہے۔ در مختار میں ہے: "العبادة المالية تقبل النيابة مطلقا عند القدرة والعجز ولو النائب ذميا لان العبرة لنية المؤكل ولو عند دفع الوكيل والبدنية كصلاة وصوم لا مطلقا والمركبة منهما كحج الفرض تقبل النيابة عند العجز فقط ليكن بشرط دوام العجز الى الموت لانه فرض العمر حتى تلزم الاعادة بزوال العذر، اهـ " . " واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں کہ قرآن کے لئے منجملہ شروط یہ ہے کہ حج کا احرام کل طواف عمرہ یا اکثر طواف عمرہ سے پہلے باندھے اور تمتع کے لئے یہ شرط ہے کہ طواف عمرہ کل یا اکثر احرام حج سے پہلے کر چکا ہو۔ رد المحتار میں لباب سے ہے: "للقران سبعة شروط الاول ان يحرم بالحج قبل طواف العمرة كله او اکثره فلو احرم به بعد اكثر طوافها لم يكن قارنا ، اهـ (M)" اسی میں ہے: " يطوف للعمرة كله او اكثره قبل احرام الحج " (۳) نیز در مختار میں ہے : " هو ان يفعل العمرة او اكثر اشواطها في اشهر الحج، اه (۴) واللہ تعالیٰ اعلم (۳) صورت مسئولہ میں تقصیر ساقط ہے اور شعر قصیر ہو تو حلق متعین ہے۔ در مختار میں ہے : " لو لبده بحيث تعذر التقصير تعين الحلق (A)" ردالمختار میں ہے: " ومثله مالو كان الشعر قصيرا فيتعين الحلق (9) واللہ تعالیٰ اعلم (۲) فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی