مسجد کو نقصان پہنچانا جائز نہیں!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل سوالوں میں کہ: زید مسجد کے قریب رہتا ہے اور اپنے کو مسلمان کہتا ہے ، اس کا کردار یہ ہے کہ وہ مسجد کو کسی نہ کسی طرح سے نقصان پہنچا رہا ہے یعنی اس نے مسجد کی پشت کی جانب پچھیت سے ملا کر درخت لگارکھے ہیں جس سے مسجد کی پچھیت کو نقصان پہنچے ۔ ۲۔ مذکورہ درختوں کی وجہ سے ایک مینار بھی مسجد کا گر گیا۔ زید نے مسجد کی کچھ آراضی پر غاصبانہ قبضہ کر کے ایک کمرہ بھی بنالیا ہے اور کمرے کے جانب پورب باقی افتاده زمین مسجد پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ ۴۔ جب زید کے مذکورہ بالا فعل بد پر اس سے کہیں تو وہ گالی گلوچ اور مار پیٹ پر آمادہ ہو جاتا ہے اور جو مسلمان اس سے اس کے فعل مسجد کے خلاف کو منع کرتے ہیں تو وہ ان سے جھگڑا کرنے کے لئے غیر مسلم اور رافضیوں کو جمع کرتا ہے۔ لہذ ادریافت طلب یہ ہے کہ زید کا مذکورہ بالا فعل جائز ہے یا نہیں ؟ اگر نہیں تو زید پر شرعاً کیا حکم ہے ؟ اور مسلمانوں کو زید کے ساتھ کیسا تعلق رکھنا چاہئے ؟ یعنی زید کو کس فرقے کا فرد سمجھنا چاہئے ؟ اور جو مسلمان زید کے فعل بد مذکورہ بالا کو برا سمجھتے ہیں ان کا یہ فعل صحیح ہے یا نہیں ؟ فقط ، والسلام احقر : سید محمد رفعت علی فاطمی منصوری، محله خدا گنج خورد (بہار)
الجواب: زید کو مسجد کے پشتہ کو ضرر پہنچانا اور اس کے کسی قطعہ زمین پر قبضہ جائز نہیں اور ممانعت کرنے والوں سے گالی گلوچ اور مار پیٹ، اس پر کفار و مرتدین سے مدد چاہنا سب حرام، بد کام، بدانجام ہیں، ہر مسلم واقف حال پر اس سے بیزاری اور حتی المقدور اس کے افعال بد کی قباحت کا اظہار فرض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۴ / شوال المکرم ۱۴۰۱ھ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم / قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی