دو سے زائد طلاق کے الفاظ کہنے سے طلاق مغلظہ کے وقوع اور حرمت کا بیان
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ: زید نے اپنی بیوی ہندہ کو اپنے سامنے بلا کر کہا کہ ہم نے تم کو دو سے زائد طلاق دیا اور جب چند حضرات کو معلوم ہوا اور زید کو بلا کر پوچھا تو اس وقت بھی اسی الفاظ کو دہرایا۔ لہذا دریافت طلب امر یہ ہے کہ ہندہ کو کتنی طلاق واقع ہوئی اور زید رکھنا چاہے تو اس کی کیا صورت ہوگی ؟ مع حوالہ قرآن و حدیث جواب مرحمت فرما کر عند اللہ و عند الرسول ماجور ہوں۔ (نوٹ) ہندہ چند ماہ سے حاملہ ہے ۔ فقط غلام رسول محمد شوکت کی باڑی ،اسٹیشن روڈ مٹیا گڑھ ، ۲۴ پرگنہ
الجواب: صورت مسئولہ اگر واقعہ ہے تو ہندو زید کے نکاح سے فوراً باہر اور زید پر حرام ہو گئی۔ اب جب تک ہندہ بعد عدت دوسرے سے نکاح صحیح کے بعد مشغول جماع ہو کر طلاق نہ لے لے اور اس کی عدت نہ گزار لے، زید کو اس سے نکاح حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۴ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف