اسکول کے کوٹہ کا سامان بلیک میں فروخت کرنا اور بیرون ملک سے طلاق نامہ بھیجنے کا مسئلہ
اسکول کے نام پر کوٹہ سے کوئی چیز لے کر اس کو بلیک کرنا کیسا؟ علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں: (۱) زید اسکول کے نام پر کوئی چیز کوٹے سے یعنی پرمٹ سے خریدے، درخواست اسکول کے نام سے دے اور پرمٹ میں جو خرچ لگے اپنی جیب خاص سے خرچ کرے اور پر مٹ منظور ہوکر سامان مل جائے ، سامان ملنے پر زید کچھ سامان بلیک کر کے روپیہ خود لے لے اور کچھ سامان اسکول کو دے کر اسکول سے کنٹرول ریٹ سے روپیہ لے جبکہ پورے سامان کو اسکول کی ضرورت تھی جو پرمٹ سے ملی تھی۔ ایسی صورت میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے ؟ زید نے فعل جائز کیا یا ناجائز؟ زید پر شریعت کا کیا حکم نافذ ہوا؟ از روئے کرم ارشاد فرما کر مطمئن فرماویں۔ عین نوازش ہوگی ! (۲) زید نے اپنی بیوی کو پر دیس سے طلاق نامہ لکھ کر بھیج دیا، طلاقنامہ پاکر بیوی شوہر کے مکان سے
(1) زید کا یہ فعل دھوکہ ہے اور دھوکہ دینا شرع میں ممنوع ہے جس سے احتراز لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم