شوہر کے برے سلوک، بہنوں پر حملہ اور عدالتی فیصلے کے متعلق حکم
ہوں، اس کا میرے پاس ثبوت ہے، ایک جوان میری بہن ہے، کہتا تھا کہ اس اپنی بہن کو میرے پاس رکھ ، اگر نہیں رکھا تو تجھے ماروں گا۔ ہر وقت ہی لڑتا تھا کہ اپنی بہن کو یہیں پر رکھ ، تو میں نے اپنی چھوٹی بہن کو اپنے پاس بچوں کے کارن رکھ لیا تو انہوں نے اس کے ساتھ ناجائز کام کیا، جوان بہن کی شادی ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس کی عزت رکھ لی، اگر میں پھر جاؤں گی تو پھر وہ میری بہنوں پر حملہ کرے گا اس لئے مجھے یہ اجازت دو کہ یہ عدالتی فیصلہ کروں۔ والسلام
الجواب: سوال فرضی نام سے کرنا چاہئے ، مسئول عنہ کا نام ظاہر کرنا خلاف اولیٰ بات ہے ۔ (۱)،، زواجر میں ہے: ”والافضل ان يبهمه -الخ پھر بر تقدیر صدق سوال شوہر اس عورت کا سخت گناہگار ، ظالم ، جفاکار ، بد کار مستحق نار ہے ، اپنے افعال بد سے توبہ کرے اور بیوی کو یا حسن معاشرت کے ساتھ رکھے یا طلاق دے کر اس کی گلوخلاصی کر دے ورنہ اشد عذاب کا مستوجب رہے گا، وہ اگر خود طلاق نہ دے تو اہل اثر و حکام کے جبر و اکراہ سے اس سے زبانی طلاق کہلوائی جائے ، یہ چارہ کار وجہ خلاصی ہے اور کچہری کی آزادی کچھ نہیں ۔ لہذا اس سے عورت کو غیر سے نکاح حلال نہ ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۳ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ