امامت، ترک جماعت، فسق اور جمعہ و عیدین کے قیام کے شرائط کا بیان
شخص کی اقتداء درست ہے ؟ (۲) جہاں جمعہ اور عیدین کی نماز ایسا شخص پڑھاتا ہو جس کی امامت میں کسی شخص کو نماز پڑھنے میں کراہت محسوس ہوتی ہو یا اس شخص کا دل اس کی اقتداء کو گوارا نہیں ، تو ان صورتوں میں اس شخص کے لئے کیا حکم ہے ؟ وہ شخص جمعہ کے بدلے گھر پر ظہر پڑھ لینے اور عیدین کی نماز دوسری جگہ پڑھنے یا اس پاس کی جماعتوں میں دوسرے عقیدے کے امام ہوں تو چھوڑ دینے کو بہتر سمجھتا ہے۔ گاؤں والے اس شخص کے اس فعل کوناجائز بتلاتے ہیں۔ صحیح جواب سے نوازیں۔ (۳) کیا ایسی بستی میں نماز جمعہ و عیدین پڑھنی چاہئے جہاں روزانہ ضروریات کی زیادہ تر چیزیں ملتی ہیں لیکن یہاں کوئی حاکم ایسانہیں جو مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکتا ہو۔ حالانکہ گرام پنچایت کچہری وغیرہ ہے اور اس بستی میں نماز جمعہ و عیدین قبل سے ہوتا آیا ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ یہاں نماز جمعہ وعیدین جائز نہیں ہے۔ شرعی جواب تفصیل میں دیں۔ (۴) زید دانستہ طور پر عمرہ کی رقم جو کسی پر دین ہے ، غصب کرانا چاہتا ہے اور غاصب کی حمایت اور مدو کرتا ہے اور اپنے چند معتقدوں کو عمرو سے لڑنے اور فساد کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ غاصب صاحب اقتدار ہے لہذازید اس کی خوشامد کے تحت ایسا کرتا ہے تاکہ اس مالک کی اس پر مزید عنایت وکرم رہے ۔ ایسے شخص کی اقتداء درست ہے کہ نہیں ؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ (۵) کیا جمعہ اور عیدین کی متعد د جماعت صورت ۴، ۲، کی وجہ کر قائم کی جاسکتی ہے ؟ جبکہ جماعت میں ۷،۵ آدمی ہوں۔ فقط ۔ والسلام محمد عبد القدوس قادری، کاشانه قادری، رضا نگر، پر سونی ضلع سیتا مڑھی
امامت، ترک جماعت، فسق اور جمعہ و عیدین کے قیام کے شرائط کا بیان Question: شخص کی اقتداء درست ہے ؟ (۲) جہاں جمعہ اور عیدین کی نماز ایسا شخص پڑھاتا ہو جس کی امامت میں کسی شخص کو نماز پڑھنے میں کراہت محسوس ہوتی ہو یا اس شخص کا دل اس کی اقتداء کو گوارا نہیں ، تو ان صورتوں میں اس شخص کے لئے کیا حکم ہے ؟ وہ شخص جمعہ کے بدلے گھر پر ظہر پڑھ لینے اور عیدین کی نماز دوسری جگہ پڑھنے یا اس پاس کی جماعتوں میں دوسرے عقیدے کے امام ہوں تو چھوڑ دینے کو بہتر سمجھتا ہے۔ گاؤں والے اس شخص کے اس فعل کوناجائز بتلاتے ہیں۔ صحیح جواب سے نوازیں۔ (۳) کیا ایسی بستی میں نماز جمعہ و عیدین پڑھنی چاہئے جہاں روزانہ ضروریات کی زیادہ تر چیزیں ملتی ہیں لیکن یہاں کوئی حاکم ایسانہیں جو مظلوم کا انصاف ظالم سے لے سکتا ہو۔ حالانکہ گرام پنچایت کچہری وغیرہ ہے اور اس بستی میں نماز جمعہ و عیدین قبل سے ہوتا آیا ہے۔ زید کا کہنا ہے کہ یہاں نماز جمعہ وعیدین جائز نہیں ہے۔ شرعی جواب تفصیل میں دیں۔ (۴) زید دانستہ طور پر عمرہ کی رقم جو کسی پر دین ہے ، غصب کرانا چاہتا ہے اور غاصب کی حمایت اور مدو کرتا ہے اور اپنے چند معتقدوں کو عمرو سے لڑنے اور فساد کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ غاصب صاحب اقتدار ہے لہذازید اس کی خوشامد کے تحت ایسا کرتا ہے تاکہ اس مالک کی اس پر مزید عنایت وکرم رہے ۔ ایسے شخص کی اقتداء درست ہے کہ نہیں ؟ اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ (۵) کیا جمعہ اور عیدین کی متعد د جماعت صورت ۴، ۲، کی وجہ کر قائم کی جاسکتی ہے ؟ جبکہ جماعت میں ۷،۵ آدمی ہوں۔ فقط ۔ والسلام محمد عبد القدوس قادری، کاشانه قادری، رضا نگر، پر سونی ضلع سیتا مڑھی
الجواب: (1) جماعت کا ترک بے وجہ شرعی گناہ اور اس کی عادت کبیرہ گناہ ہے اور اس کا عادةً مرتکب ہونے والا فاسق ہے ، اسے امام بنانا گناہ اور اس کی اقتداء مکروہ تحریمی اور نماز واجب الاعادہ ہوگی۔ غنیہ میں ہے: لو قدموا فاسقا ياثمون بناء على ان كراهة تقديمه كراهة تحريم . (1) در مختار میں ہے: كل صلاة اديت مع كراهة التحريم تجب اعادتها . (۲) لہذا جبکہ جمعہ و عیدین غیر فاسق امام کے پیچھے پڑھ سکتے ہوں تو اس کی اقتدا کی اجازت نہیں۔ فتح القدیر میں ہے: وفى الدراية قال اصحابنا لا ينبغى ان يقتدى بالفاسق الا في الجمعة لأن في غيرها يجد اماما غيره اهـ ، يعنى انه فى غير الجمعة بسبيل من ان يتحول الى مسجد آخر ولا يأثم في ذلك ذكره في الخلاصة وعلى هذا فيكره في الجمعة اذا تعددت اقامتها في المصر على قول محمد وهو المفتى به لانه بسبيل من التحول حينئذ . (۳) والله تعالى اعلم (۲) اس سے کراہت بے وجہ شرعی ہے، تو یہ کراہت والا ہی گناہگار اور ترک جماعت و جمعہ و عید سے ملزم ہو گا اور اگر کراہت کی وجہ شرعی ہے تو اس کی اقتدا سے باز آنے پر الزام نہ ہو گا مگر جبکہ جمعہ و عیدین میں کسی لائق امامت کی اقتدا میسر نہ ہو تو اس کی اقتدا لازم ہوگی اور جمعہ و عیدین کا ترک جائز نہ ہو گا مگر یہ کہ امام بدمذ ہب ہو اور اسکی بدمذہبی حد کفر کو پہنچی ہو تو اس کی اقتدا ہر گز جائز نہیں اور نماز اس کے پیچھے باطل کہ اس کی اپنی نماز ہی درست نہیں۔ کفایہ میں ہے: اما الكافر فلا صلاة له - الخ“ ۔ (واللہ تعالیٰ اعلم (1) غنية المستملى شرح منية المصلى، فصل في الامامة، ص ٥١٣ ، سهیل اکیڈمی (2) الدر المختار، کتاب الصلاة باب صفة الصلاة ج ۲، ص ١٤٨، ١٤٧ ، دار الكتب العلمية ،بيروت (3) فتح القدير ، ج ۱، ص ٣٥٩، کتاب الصلوة ، باب الامامة، برکات رضا پور بندر،گجرات (4) كفايه مع فتح القدير ، ج ١ ، ص ٣٢٤ ، كتاب الصلوة، باب الامامة، دار الكتب العلمية، بيروت (۳) شہر وہ جگہ ہے جہاں دوامی بازار ، متعد د گلی کوچے ہوں اور وہ جگہ ضلع یا پرگنہ ہو جس کے متعلق دیہات گنے جاتے ہوں اور وہاں حاکم رہتا ہو جو اپنی شوکت و حشمت سے ظالم کا انصاف مظلوم سے لے سکے اور یہ آخری شرط اصل شرط ہے اور جمعہ مذہب حنفی میں شہر وفنائے شہر میں ہی سیج ہوتا ہے ، دیبات میں جمعہ صحیح نہیں۔ یہی حکم عیدین کا بھی ہے۔ در مختار میں ہے: "تكره في القرى تحريما لأنه اشتغال بما لا يصح لأن المصر شرط الصحة". ) مگر جہاں عوام پہلے سے جمعہ و عیدین پڑھتے آئے ہوں وہاں منع نہ کیا جائے گا۔ در مختار میں ہے: "اما العوام فلا يمنعون من تكبير ولا تنفل اصلا لقلة رغبتهم في الخيرات". (۲) اور گرام پنچایت ہونا شرعی شہریت کے لئے کافی نہیں اور کچہری کا حاکم سے خالی ہونا مستبعد ہے تو وہ کچہری نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) الدر المختار، ج ۳، كتاب الصلوة، باب العيدين، ص ٤٦ ، دار الكتب العلمية بيروت (2) الدر المختار،ج٣،ص٥٢ ، کتاب الصلوۃ،باب العیدین،دار الكتب العلمية بيروت (۴) اگر یہ بات شرعا ثابت ہے کہ وہ ظالم کی اعانت کرتا ہے تو فاسق معلن ہے، اس کی اقتداء ممنوع ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) ہاں جبکہ امام ماذون به اقامت جمعہ ہو ، ورنہ نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۲۴ / رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ