سنی لڑکی کا بد مذہبوں سے نکاح اور اس کے اثرات کا حکم
کیا سنیہ لڑکی کیا نکاح وہابی دیوبندی رافضی وغیرہ سے ہوسکتا ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ: ستی لڑکی کا نکاح وہابی، دیو بندی یارا فضی لڑکے کے ساتھ ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ اور اگر اعلمی میں ہو جائے تو نکاح منعقد ہو گا کہ نہیں؟ ایسی صورت میں سنی لڑکی کا نکاح دوسری جگہ بغیر طلاق کے کیا جاسکتا ہے یا نہیں؟ شرع شریف میں کیا حکم ہے ؟ صاف صاف جواب باصواب مع دلائل کے تحریر فرمائیں۔ بینوا توجروا المستفتی: نور الہدی، قصبہ و ڈاکخانہ دوست پور ، محله تکیه ندا شاہ ضلع سلطان پور ، یوپی
وہابیہ زمانہ اور دیوبندی اور رافضی عقائد کفریہ رکھتے ہیں تو مرتد ہیں اور مرتد سے کسی کا نکاح درست نہیں ۔ در مختار میں ہے: "لا يصلح مرتدا او مرتدة ان ينكح احدا من الناس مطلقا". () لہذ اطلاق کی حاجت نہیں ، مگر قانونی کارروائی سے بچنے کے لئے کچہری سے آزادی حاصل کرلیں، اگر چہ یہ آزادی شرعا کوئی چیز نہیں مگر یہاں تو نکاح سرے سے ہوا ہی نہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله