بیوی کو ستانے والا ظالم جفا کار ہے!
جمیل میرا شوہر جو ہے وہ غلط ہے ، وہ اور عورت رکھتا ہے ، میری مار توڑ لگاتا ہے ، بمبئی سے مجھے آئے ہوئے دس مہینے ہو گئے ہیں، مجھے نکال رہا ہے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، اب میں اس سے عدالتی فیصلہ لینا چاہتی ہوں، میرا کوئی وارث نہیں ہے ، میرے باپ بوڑھے ہیں، ضعیف ہیں، میں اس لئے عدالتی کام کر رہی ہوں کہ یہ میرا پیچھا نہ کرے، میں اپنی محنت مزدوری کرکے اپنا اور بچوں کا پیٹ پالوں گی۔ آٹھ برس کی میری بہن ہے، اس نے اس کے ساتھ ناجائز کام کیا، میں یہ صحیح لکھ رہی
سوال فرضی نام سے کرنا چاہئے ، مسئول عنہ کا نام ظاہر کرنا خلاف اولیٰ بات ہے ۔ (۱)،، زواجر میں ہے: ”والافضل ان يبهمه -الخ پھر بر تقدیر صدق سوال شوہر اس عورت کا سخت گناہگار ، ظالم ، جفاکار ، بد کار مستحق نار ہے ، اپنے افعال بد سے توبہ کرے اور بیوی کو یا حسن معاشرت کے ساتھ رکھے یا طلاق دے کر اس کی گلوخلاصی کر دے ورنہ اشد عذاب کا مستوجب رہے گا، وہ اگر خود طلاق نہ دے تو اہل اثر و حکام کے جبر و اکراہ سے اس سے زبانی طلاق کہلوائی جائے ، یہ چارہ کار وجہ خلاصی ہے اور کچہری کی آزادی کچھ نہیں ۔ لہذا اس سے عورت کو غیر سے نکاح حلال نہ ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۳ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ