ہاتھ پر گودنے کے نشان والے شخص کی امامت کا شرعی حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: کسی نے اوائل عمری میں اپنے ہاتھ میں گودنے کی شکل میں نام لکھوالیا ہو، تو ایسے شخص کے پیچھے نماز ہوگی یا نہیں ؟ جواب مدلل و مفصل مرحمت فرماکر ممنون و مشکور فرمائیں۔ والسلام المستفتی: مجیب الاسلام، مقام و پوسٹ سندری ضلع مرزا پور ، یوپی
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
الجواب: اس وجہ سے اس کی اقتدا سے ممانعت نہ ہوگی۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۲۲ / رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۱۱ · صفحہ ۴۸
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
امامت، ترک جماعت، فسق اور جمعہ و عیدین کے قیام کے شرائط کا بیان
باب: تکملہ
کسی پیش امام کے پیچھے مقتدیوں کا نماز چھوڑنا اور مسجد کی غیر موجودگی میں عید گاہ بنانا
باب: تکملہ
بیوی کو ستانے والا ظالم جفا کار ہے!
باب: تکملہ
شوہر کے برے سلوک، بہنوں پر حملہ اور عدالتی فیصلے کے متعلق حکم
باب: تکملہ
متفرق فقہی اور عقائدی سوالات بشمول کفارِ ہند، مولانا مودودی، اوجھڑی اور نمازِ کسوف کے احکام
باب: تکملہ