کسی پیش امام کے پیچھے مقتدیوں کا نماز چھوڑنا اور مسجد کی غیر موجودگی میں عید گاہ بنانا
بخدمت شریف پیر فقیر روشن ضمیر ! السلام علیکم ورحمة الله وبركاته آپ کی دعا سے میں بخیریت ہوں، بھیجا ہوا اشتہار دستیاب ہوا، گزارش خدمت یہ ہے کہ مندرجہ ذیل سوالات کے جوابات تحقیقی بحوالہ کتب دے کر کرم فرمائیں۔ (1) اگر چالیس فیصد مقتدی کسی پیش امام کے پیچھے نماز پڑھنا کسی وجہ سے چھوڑ دیں اعتراض کرتے ہوئے اور پیش امام اس کے باوجود بھی اپنی جگہ پر صحیح سلامت ہوں ، پیش امام کے متعلق علماء کیا فرماتے ہیں ؟ (۲) کیا مسجد کی غیر موجودگی میں عید گاہ جائز ہے یا نہیں ؟ اور اس عید گاہ میں عیدین کی نماز پڑھی جا سکتی ہے یا نہیں ؟ آپ کا غلام محمد صدیق
الجواب: (1) وہ لوگ اگر وجہ شرعی کی بنا پر اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے تو ان پر الزام نہیں ہے اور امام واقعی ملزم ہے ، اسے امامت سے باز رہنا لازم ہے اور اگر بے وجہ شرعی اس کی اقتداء چھوڑ دی ہے تو یہ لوگ بر سر خطا و گناہ گار ہیں ، تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) عید گاہ جائز ہے اور اس میں نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۵/ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ الجواب صحیح و صواب والحجیب نجیح و مثاب۔ واللہ تعالی اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی