والدین سے بدسلوکی پر سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے!
محترمی و مکر می جناب قبلہ و کعبہ حضرت علامہ مفتی اختر رضا خاں صاحب! خدمت عالیہ میں آداب ! بعدہ واضح ہو کہ مندرجہ ذیل ایک مسئلہ خدمت میں پیش کر رہا ہوں، امید ہے کہ آپ جواب ضرور بالضرور دیجئے گا۔ ایک شخص جو کہ سنی ہے، اچھی خاصی نوکری کرتا ہے، کم سے کم ۳۰۰ور تیرہ سوروپے ماہانہ تنخواہ پاتا ہے ، مجاہد ہے، سنیت کا دعویٰ کرتا ہے، سنی علماء کے اندر اپنی عزت و عافیت در کار رکھتا ہے ، سنی علماء کی بڑی عزت کرتا ہے ، انہیں اپنے گھر بلا کر مہمان نوازی کرتا ہے ، بلکہ وہ کسی بزرگ ہستی پیر کا مرید بھی ہے۔ مگر خاص نقطہ یہ ہے کہ وہ اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ بڑی بیہودہ باتوں سے پیش آتا ہے ،اسے ہر بات میں رانڈ کہتا ہے ، اسلام میں ایسے آدمی کو کس نظر سے مدعو کرنا چاہئیے ؟ ایسا آدمی اسلام اور دنیا کی نظر میں کیا ہے ؟ اس کی بیوی بھی بہت ہی گندی گندی گالی دیتی ہے، مجھے لکھتے ہوئے شرم آرہی ہے ۔ مگر وہ شخص اپنی بیوی کو الف سے ب تک نہیں بولتا بلکہ ہاں بے قصور ماں ہے پھر بھی ماں سے یہ بھی کہتا ہے کہ میرے سے میری بیوی سے معافی مانگ۔
الجواب:ماں باپ کے ساتھ بد کلامی و بد سلوکی حرام، بد کام، بدانجام ہے اور اس پر سوء خاتمہ کا اندیشہ ہے والعیاذ باللہ شخص مذکور تو بہ کرے اور ماں سے معافی مانگے اور اپنی عاقبت کی فکر کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلهصبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلمقاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی۹ر رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ