دھوبی کے گھر کا کھانا، وضو، حیض میں کھانا پکانے اور دیگر مسائل کا بیان
کھانا اس کے گھر پکا اور خود اس نے اپنے ہاتھ سے کھانا پکایا، لوگوں نے کھانا کھانے سے انکار کر دیا کہ دھوبی کے گھر کا کھانا جائز نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ گندے کپڑے دھوتا ہے اور عورتوں کے (سفور ) یعنی بچہ پیدا ہونے کے بعد کے کپڑے بھی دھوتا ہے اس لئے دھوبی کے گھر کا پکا ہوا کھانا جائز نہیں۔ اگر دھوبی دوسرے کے گھر کا کھانا پکوائے اور دوسرا شخص پکائے تو کھانا جائز ہے ۔ یہ کہاں تک صحیح ہے ؟ (۲) مسئلہ یہ ہے کہ مشہور ہے کہ دھوبی کا گھاٹ پاک ہے اور گھر ناپاک ہے ، گھاٹ پر بیٹھ کر کھانا کھا سکتے ہیں اور گھر پر نہیں ۔ صحیح جواب سے مطلع کریں۔ (۳) باوضو شخص کی اگر فرج کھلے ہوئے شخص پر نظر پڑ جائے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ اس مسئلہ میں کیا رائے ہے ؟ کیونکہ عام طور پر لوگ جانگیہ پہنے مسجد کے سامنے سے بھی گزرتے ہیں اور ویسے بھی نمازی اس طور سے کہاں تک وضو کرے ؟ جواب سے مطلع کریں۔ وضو کب اور کیسے ٹوٹ جاتا ہے ؟ (۴) یہ کہاں تک صحیح ہے کہ عورت ماہواری کی عدت میں کوئی نیاز نذر کا کھانا نہیں پکا سکتی اور اگر پکا بھی دے تو فاتحہ نہیں ہو سکتی۔ جواب سے مطلع فرمائیں۔ (۵) جمعہ کے روز دو فرض جمعہ کے بعد چار فرض ظہر پڑھتے ہیں، ان کی نیت کس صورت سے کرنا چاہئے اور چاروں رکعت میں سورت پڑھنا چاہئے یا دو بھرے اور دو خالی ؟ جواب سے مطلع کریں۔ (1) اہل ہنود یعنی ہند و اگر کسی تقریب میں دعوت کرتا ہے اور کھانے میں حلوائری کھلاتا ہے ، کھانا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب سے مطلع فرمادیں۔ المستفتی: سید محمود میاں ، موضع مہالیا، ڈاکخانہ اتر سیا ضلع بریلی، تھانہ ہیری
الجواب: (1) ان لوگوں نے غلط کہا اور اپنے غلط خیال کی بنا پر اس دھوبی کی دعوت قبول نہ کر کے بھی گناہگار ہوئے، تو بہ کریں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲، ۴،۳) یہ سب غلط باتیں ہیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) جس طرح اور دنوں میں فرض ظہر کی نیت کرتے ہیں، اسی طرح جمعہ کے دن بھی کریں اور دو حسب دستور بھری اور دو خالی پڑھیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (1) کفار سے میل جول ہی کب جائز ہے کہ ان کی دعوت میں کھانے کا سوال ہو ؟ البتہ دعوت قبول نہ کرنے میں فتنہ و مضرت کا اندیشہ صحیح ہو تو جاسکتے ہیں اور کھانا بھی جائز۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله ۱۱/ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ