فتویٰ پر عمل نہ کرنے والے اور توبہ نہ کرنے والوں سے میل جول کا حکم
فتویٰ پر عمل نہ کرنے والے کا حکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: زید، عمرو کے اوپر توبہ و تجدید ایمان فرض ہے اور تجدید نکاح بھی فرض ہے جس کے بارے میں فتویٰ ایسا آیا ہے اور میں نے بریلی شریف سے اس فتویٰ کو منگوایا ہے جو کہ آپ کے رجسٹر میں ہو گا، رجسٹر ۱۸۳/۵ ہے۔ خیر ۔۔۔ اگر زید، عمرو تو بہ و تجدید ایمان نہیں کرتے ہیں تو ان کے ساتھ رہنے والوں ، ان کے ساتھ گفتن، خوردن، نوشتن کرناکیسا ہے ؟ لوگ تو بہ نہیں کرنے والوں کا ساتھ دیں تو مسئلہ کا کیا حکم ہے ؟ برائے مہربانی
زید، عمرو پر اگر واقعہ تو بہ و تجدید ایمان فرض ہے اور انہوں نے ہنوز نہ کی تو انہیں چھوڑنا ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے اور جو دانستہ ان سے ملیں، سخت گناہگار ہیں ، ان کو بھی چھوڑ دینا چاہئے ، جبکہ باز نہ آئیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله صح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲/ رمضان المبارک ۱۴۰۱ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف