دل آزاری کی شرط پر طلاق کا اختیار دینے کی صورت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید بن بکر کے خسر نے اپنے دوست عمرو کی دوکان پر ایک شرائط نامہ اس وعدہ پر لکھوایا کہ اگر تم اس شرط کو لکھ دو تو میں اپنی لڑکی ہندہ بنت حامد کو رخصت کر دوں گا اور یہی وعدہ اپنے دوست عمرو کو اس کے گھر پر ٹیلی فون سے زید کو کہلوایا۔ جب زید عمرو کی دُکان پر پہنچا تو وہاں پر حامد کے دوست محمود کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ خلاصہ گفتگو یہ ہے کہ زید نے تجت کی کہ لاؤ ہم دیکھیں کہ آپ کیا لکھانا چاہتے ہیں اور کس شرط پر، اس پر حامد نے یہ کہا کہ تم کو بندش میں رکھنے کے لئے۔ تاکہ تم دوسری شادی نہ کر سکو اس لئے اتنی سخت تحریر لکھوا رہا ہوں۔ اس پر زید نے کہا کہ ہم کو موقع دیجئے، ہم بالکل ناواقف ہیں ، اس پر حامد نے یہ کہا کہ جب لڑکی رخصت کر دوں گا تو یہ تحریر بے کار ہو جائے گی۔ یہ صرف ہم اپنی اور اپنے گھر والوں کی دل بستگی کے لئے لکھوا ر ہے ہیں اور یہ بات واضح کر دے رہا ہوں کہ شرائط لکھے جانے کے وقت ہندہ وہاں موجود نہ تھی اور زید کو یہ نہیں معلوم ہو سکا کہ ہندہ نے اپنے والد کو اس طرح کی تحریر لکھوانے کی اجازت دی ہے یا کہ نہیں اور زید انگریزی تعلیم یافتہ ہے، قانون شریعت پر عبور نہیں رکھتا ہے۔ تو ایسی حالت میں زید بن بکر نے اپنے خسر کے وعدہ کے مطابق اور اپنے خسر کے حسب منشا اس شرائط نامہ کو لکھا جو اس پرچہ کے ساتھ ہے ۔ کئی ماہ گزر گئے مگر ہندہ کو اس کے والد نے رخصت نہیں کیا بلکہ اس کے خلاف جہیز اور مہر اور نقذ جو شرائط نامہ میں مذکور ہے اس کو بہت سختی اور دھمکی کے ساتھ زید سے مطالبہ کر تار ہا اور یہ بھی دھمکی دیتا ہے کہ اگر جہیز اور مہر اور نقد نہیں دیتے ہو تو میں مقدمہ سے وصول لوں گا۔ اور یہ بھی اعلانیہ سب سے کہتا ہے کہ ہماری لڑکی ہندہ نے اپنے اوپر اپنی مرضی سے طلاق واقع کر لیا ہے تو کیا اس شرائط کے تحت لڑکی اپنے اوپر طلاق واقع کر سکتی ہے ؟ باوجود اس کے کہ زید لڑکی کو رخصت کرانا چاہتا
الجواب: طلاق نامہ ملاحظہ ہوا، اس میں دل آزاری کی شرط پر طلاق کا اختیار دیا گیا ہے، اگر وہ شرط پائی گئی اور عورت نے خود کو طلاق دے لی تو ہو گئی ۔ ورنہ طلاق واقع نہ ہوئی ، لہذا بیوی کو اس کے شوہر کے سپر د کرنا لازم ہے اور بیوی کو شوہر سے بگاڑ ناظلم و گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادی غفرله قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲/ رمضان المبارک ۱۴۰۱ء دارالافتاء منظر اسلام، بریلی شریف