ہاتھ پیر باندھ کر انگوٹھا کا نشان لینے سے طلاق نہیں ہوتی!
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان کرام مسئلہ ہذا میں کہ: زید کی بیوی ہندہ زید سے اجازت لے کر اپنی ماں کے یہاں گئی، چھ ماہ بعد زید ہندہ کے یہاں پہنچا اور ہندہ کے یہاں ایک شب گزاری، دوسرے دن ہندہ کو رخصت کرنے کے بجائے ہندہ کے والد اور اُن کے چچا وغیرہ نے مل کر جبرا ایک سادہ کاغذ پر گر کر ہاتھ پیر پکڑ کر نشان انگوٹھالے لیا۔ جب زید کے والد کو پتہ چلا تو وہ گاؤں سے تین چار آدمیوں کو لے کر گئے تو ہندہ کے والد نے کہا کہ زید نے ہندہ کو طلاق دے دیا ہے۔ اس پر زید نے ان سے کہا کہ یہ سب جھوٹ ہے ، تم نے جبر اسادے کاغذ پر نشان
لگوالیا ہے، منہ سے نہیں کہا ہے، اس کے بعد زید اپنے والد کو مع ان آدمیوں کے لے کر چلا آیا جس کی رپورٹ تھانہ میں بھی اسی دن درج کروادی ہے جس کی نقل رپورٹ زید کے پاس ہے۔ ازروئے شریعت جواب عنایت فرمائیں کہ طلاق ہوئی یا نہیں ؟ فقط ! الجواب: نبیہ احمد ، ساکن بانس کھیڑا ضلع پیلی بھیت اگر یہ واقعہ ہے جو سوال میں درج ہوا تو طلاق نہ ہوئی واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاں خاں از هری قادری غفرلہ