ترویحہ میں تسبیح و ذکرِ صحابہ اور اذانِ عشاء کے بعد انبیاء علیہم السلام پر سلام پڑھنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ : (1) تراویح کی چار چار رکعت کے بعد ہر ہر ترویحہ میں جماعت کے چند افراد بلند آواز سے تسبیح پڑھتے ہیں پھر امام دعامانگتے ہیں اس کے بعد پھر چند افراد پہلی ترویجہ میں حضور اکرم ﷺ کی تعریف ، دوسری میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، تیسری میں عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی، چوتھی میں حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور پانچویں میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تعریف اور دوسری سے لے کر پانچویں تک تذکرہ خلافت کرتے ہیں۔ یہ عمل عرصہ دراز سے ہوتا چلا آرہا ہے ۔ مندرجہ بالا عمل کرنا درست ہے یانا جائز ہے ؟ ایسا کرنے میں شرعی رکاوٹ ہے یا نہیں ؟ (۲) رمضان المبارک کے مہینہ میں عشاء کی اذان کے بعد اور فرض نماز کی جماعت سے قبل لاؤڈ اسپیکر میں اذان کے بعد آدم علیہ السلام، نوح علیہ السلام، ابراہیم خلیل اللہ، اسماعیل ذبیح اللہ ، موسیٰ کلیم اللہ ، داؤد علیہ السلام اور حضرت محمد صلی اللہ کے نام پکار کر سلام بھیجا جاتا ہے۔ کیا یہ عمل درست اور جائز ہے ؟ اسے صلاۃ کہا جاتا ہے۔ اس عمل کو کرنے میں کوئی حرج ہے؟ فقط معین الدین ایڈووکیٹ ، ایوت محل، مہاراشٹر
الجواب: (1) جائز ہے کہ مانع شرعی کوئی نہیں۔ حدیث میں ہے: ما رأه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن. (1) جسے مسلمان اچھا جانیں تو اللہ کے نزدیک بھی اچھا ہے۔ (1) المقاصد الحسنة للسخاوى ، ص ٤٢٢ ، حدیث نمبر ، ٩٥٧ ، برکات رضا پور بندر گجرات پھر ہمارے ائمہ اعلام فرماتے ہیں کہ ہر چار رکعت کے بعد لوگوں کو اختیار ہے چاہیں تو تسبیح پڑھیں یا قرآت کریں یا خاموش رہیں یا تنہا نماز پڑھیں ۔ در مختار میں ہے: ويخيرون بين تسبيح و قراءة وسكوت وصلاة فرادى ۔ اور امور مذکورہ کچھ متعین نہیں ورنہ اہل مکہ طواف نہ کرتے ۔ رد المختار میں ہے: واهل مكة يطوفون۔ اور جب متعین نہ ہونا ظاہر تو ممانعت کیسی ؟ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) بے شک جائز و مستحب ہے۔ در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة سبعمأة واحدى وثمانين في عشاء ليلة الاثنين ثم يوم الجمعة ثم بعد عشر سنين فى الكل الا المغرب ثم فيها مرتين وهو بدعة حسنة۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۹ر شعبان المعظم ۱۴۰۱ھ دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی