جعدہ کی طرف زہر خورانی کی نسبت، اللہ کو لا پرواہ کہنا، نبی کو رحمن کہنے اور حضرت ایوب علیہ السلام کے بارے میں سوال
(1) اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بھائی حسن میاں کی کتاب آئینہ قیامت میں صحیح روایات ہیں، انہیں سنا چاہئے ، مذکور کتاب میں زہر خورانی کی نسبت جعدہ کی طرف کی گئی ہے اور بعض علمائے اہل سنت نے جعدہ کی وکالت کی ہے اور لکھا ہے کہ خارجی مورخ نے جعدہ کا نام تہمت اور تبرا کے لئے لکھا ہو گا۔ حالانکہ اکابرین علماء و محدثین جعدہ کا ہی نام زہر کے بارے میں تحریر کیا ہے۔ اصل حقیقت سے آگاہ کریں، مہربانی ہوگی !(۲) زید سنی مقرر نے وعظ میں کہا کہ خدا کو بے پرواہ کہ سکتے ہیں مگر لا پرواہ نہیں کہنا چاہئے کیونکہ عرفاء عام میں لا پرواہ تساہل و تغافل کے لئے استعمال ہوتا ہے، کیا خدا کولا پر واہ نہیں کہ سکتے ؟(۳) محبوب خدا کو صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو خدا کا دلبر کہنا اور رحمن کہنا کیسا ہے ؟(۴) حضرت ایوب علیہ السلام کے جسم مبارک پر کیڑے پڑ جانا (معاذ المولی ) بعض کتابوں میں لکھا ملتا ہے۔ صحیح بات سے آگاہ کیجئے ۔(۵) حضرت امام حسین و حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو صحابی کہنا درست ہے یا نہیں ؟ براہ کرم جواب سے جلد نوازیں۔
الجواب: سائلہ : خدیجہ خاتون رضویہ ہاشمیہ حسینیہ ، کالاو ضلع جام نگر، گجرات (1) جعدہ کی زہر خورانی کی طرف نسبت بہت کتابوں میں مذکور ہوئی ہے مگر بعض روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اس امر کا شرعی ثبوت بہم نہ پہنچا بلکہ لوگوں کا ایسا گمان تھا کہ جعدہ جو امام حسن کی زوجہ تھی اس نے امام ممدوح کو زہر دیا ہے۔ چنانچہ تاریخ انسیس میں ہے: فزعموا انها سمته . (1) (1) تاريخ الخميس في احوال انفس نفيس للعلامة الشيخ حسين ابن محمد ابن الحسن الديار بكری، ج ۲، ص ۲۹۳ ذكر وفات الحسن ابن على. لہذا اس مسئلہ میں سکوت چاہئے اور سوال میں جو یہ لکھا کہ ”جعدہ کی وکالت کی ہے “ یہ عالم دین کی شان میں سخت سوء ادب کا کلمہ ہے، انہیں جعدہ سے کیا رشتہ کہ اس کی وکالت کرتے ؟ ان کی بحث کا مفاد اس قدر ہے کہ بے ثبوت شرعی کسی کو متہم کر ناروا نہیں ہے اور جعدہ کی طرف اس امر کی نسبت شرعا ثابت نہ ہوئی اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا فرمان اکثر روایات کے بابت ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) مطلقا لا پرواہ اور بے پرواہ غالبا معنی فاسد میں مستعمل ہوتا ہے لہذ الا پر واہ مطلق بے ذکر متعلق بولنا نا جائز ہے اور عالم مذکور کا تفرقہ مزعومہ باطل ہے اور عالم سے بے پرواہ، جہاں سے بے پرواہ بایں معنی کہ اللہ تعالیٰ عالم میں کسی شے کا محتاج نہیں، خاص صفت باری تعالی ہے: إِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعَلَمِيْنَ . تو اس طرح بولنا بلا شبہہ جائز ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) دلبر نہ کہیں، محبوب خدا (علیہ السلام) کہیں اور رحمن خاص خدا کا نام ہے ، غیر خدا پر اس کا اطلاق حرام بلکہ عند الفقہاء کفر ہے کمافی شرح الفقہ الاکبر۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) یہ روایت صحیح نہیں، محققین نے اس کے عدم صحت پر تنبیہ فرمائی اور تصریح فرمائی کہ انبیاء تمام منفرات سے معصوم ہیں۔ البتہ جسم مبارک میں آبلہ پڑ گئے تھے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بے شک درست ہے اور اکمال میں فہرست صحابہ میں شمار کیا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۹ر شعبان ۱۴۰۱ھ لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی