جمعہ کے دن اذان ثانی کا مقام اور اذان سے پہلے صلوۃ پڑھنا
جمعہ کے دن اذان ثانی کہاں دی جائے ؟ اذان ثانی سے پہلے صلوۃ پڑھنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ: (۱) جمعہ کے دن ثانی اذان کہاں دی جائے ؟ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مسجد کے اندر منبر کے سامنے اور ہمارے اہل سنت والجماعت کا کہنا ہے کہ مسجد کے باہر ثانی اذان دی جائے۔ لہذ ا حضور سے اپیل ہے کہ ثانی اذان باہر ہونے کا مدلل ثبوت عنایت فرمائیں۔ ثبوت باحوالہ ہوتا کہ کوئی اعتراض نہ کر پائے۔ (۲) جمعہ کے دن ثانی اذان سے پہلے صلوۃ پڑھنا کیسا ہے ؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب
عنایت فرمائیں ۔ مشکور ہونگا۔ فقط ، والسلام۔ المستفتی: سید دلاور حسین چشتی ، جامع مسجد ، امریلی، گجرات الجواب: اذان خارج مسجد ، حدود مسجد میں مسنون ہے۔ خاص مسجد کہ موضع صلاۃ ہے، کوئی اذان جائز نہیں۔ طحطاوی علی المراقی وفتح القدیر میں ہے: واللفظ للفتح : اما الاقامة ففى المسجد ولا بدواما الاذان فعلى المئذنة فان لم يكن له مكان مرتفع ففي فناء المسجد ولا يؤذن في المسجد.(1) ہند یہ میں قاضی خاں سے ہے: ينبغي ان يؤذن على المئذنة او خارج المسجد ولا يؤذن في المسجد. (۲) هدایه و غیرها اذان واقامت کے عمل کے بابت ہے: والمكان في مسألتنا مختلف . (۳) نیز فتح القدیر میں باب جمعہ میں ہے: (۴) هو ذكر الله تعالى في المسجد اى فى حدوده لكراهة الاذان في المسجد . اور ایں و آں سے بڑھ کر یہ ہے کہ حضرت سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابوداؤد اپنی سنن میں راوی: انه كان يؤذن بين يدى رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا جلس على المنبر يوم الجمعة على باب المسجد وابى بكر و عمر . (۵) (1) فتح القدير، كتاب الصلوة، باب الاذان، ص ٢٥٠ ، مطبع برکات رضاپور بندرگجرات (2) فتاویٰ قاضی خان ، ج ۱، ص ٥١ ، كتاب الصلوة، باب الاذان،دار الفکر بيروت (3) الهداية، ج ۱، ص۸۹، کتاب الصلوة، باب الاذان،کتب خانه رحیمیه (4) فتح القدیر ، ج ۲، ص ٥٦ ، كتاب الصلوۃ، باب صلوة الجمعه ، مطبع برکات رضا گجرات (5) سنن ابی داؤد، ج ۱، ص ١٥٥ ، کتاب الصلوة، باب وقت صلوة الجمعه، مطبع اصح المطابع یعنی حضور علیہ السلام اور شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے عہد میں اذان جمعہ کے دن دروازہ مسجد پر منبر کے ساتھ ہوئی تھی۔ تفصیل کے لئے اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کا رسالہ ”اوفی اللمعہ “ ملاحظہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) جائز و مستحسن ہے کہ معمول مسلمانان عالم صد ہابرس سے ہے۔ در مختار میں ہے: التسليم بعد الاذان حدث في ربيع الآخر سنة سبعمأة واحدى و ثمانين في عشاء ليلة الاثنين - الى قوله - وهو بدعة حسنة. اور اس کے استحسان پر خود آیت کریمہ صلوا علیہ وسلموا تسلیما‘ واضح برھان ہے کہ آیت میں کسی وقت کی ممانعت نہیں تو جو کسی وقت خاص میں ممانعت کا مدعی ہے، وہ قرآن و حدیث سے حکم منع دکھائے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ ۱۷ار شعبان المعظم ۱۴۰۱ھ لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی