جامع مسجد کو شہید کر کے دوبارہ تعمیر کرنے اور اس کے سامان کے استعمال کا حکم
سارا سامان ادھر اُدھر ہو جاتا ہے جو قیمتی سامان ہے ، اور یہ سب مسجد میں بند ہیں، صرف ایک مسجد ہے جس میں نماز پڑھی جاتی ہے۔ لہذا شریعت پاک کی روشنی میں جواب عنایت فرمایا جائے کہ جامع مسجد کو شہید کر کے نئی تعمیر کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ اور بعد کو جو سامان بچ جائے اسے کیا کیا جائے اور ان مسجدوں کے سامان جو خراب ہوتے ہیں، ان کا کیا کیا جائے، ان سامانوں کو فروخت کر کے خود مسجد کے کام میں استعمال کیا جا سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب عنایت فرمایا جائے۔ ان تمام باتوں کو لے کر یہاں مسلمانوں میں کافی حیرانی ہے۔
الجواب: جامع مسجد کو شہید کر کے دوبارہ تعمیر کر سکتے ہیں، اس سے شرعا ممانعت نہیں۔ زید کا قول غلط ہے جس سے اس پر تو بہ لازم ہے اور جو سامان بچ جائے اسے تاوقت حاجت محفوظ رکھیں اور اس کا ملبہ عمارت کے کام میں لائیں اور جو سامان زائد ہو کہ اس کی حاجت مسجد کو نہ اب ہو نہ آئندہ ہو، اسے مناسب قیمت پر ایسے کے ہاتھ بیچ دیں جو اسے محل اہانت میں نہ رکھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۱۲۱ شعبان المعظم ۱۴۰۱ھ دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی