معافی کی زمین کی بیع اور تعزیہ و براق کی شرعی حیثیت
وغیرہ کے خلاف آواز اٹھانا شروع کیا مگر کچھ نتیجہ نہ نکلا۔ ڈھول تاشہ وغیرہ زید کے ہی دروازہ پر محلے کے لوگ آکر بجاتے تھے ، زید ہی کے دروازے پر ایک پلاٹ ہے جس پر کہ ہر سال جلسہ سیرت پاک ہوتا ہے ، اس زمین پر محرم کا پھاٹک وغیرہ لوگ بناتے تھے اور جشن مناتے تھے ۔ امسال زید نے محرم کرنے سے یعنی تعزیہ و براق بنانے سے انکار کر دیا اور معافی والی زمین کو بیع کر دیا اور سیرت والی زمین پر پھاٹک وغیرہ بنانے سے منع تو نہیں کیا مگر محرم ختم ہونے کے بعد پھاٹک اکھاڑ کر پھینک دیا کیونکہ وہ پلاٹ زید کے ضمن میں ہے اور اس پر زید کا قبضہ بھی عارضی طور پر ہے ، زید اس زمین سے اصولی بھی کرتا ہے۔ سیرت پاک کے موقع پر زمین خالی کر دیتا ہے پھر بدستور قائم ہو جاتا ہے۔ ان باتوں سے زید کے محلہ والے تعزیہ دار زید کو بہت برا بھلا کہنے لگے اور زید پر شدید ظلم بھی کرنے لگے اور کہتے ہیں کہ زید کرے اور تعزیہ براق وغیرہ بنائے، ورنہ مستحق جہنم ہے۔ (نوٹ) زید اپنے آپ کو پکا بریلوی اور حضور مفتی اعظم ہند مد ظلہ کا غلام بھی بتا تا ہے ۔ اب دریافت طلب یہ ہے کہ زید نے جو معافی کی زمین کو بیع کیا، جائز ہے یا ناجائز ؟ اور جو تعزیہ و براق بنانابند کیا اور تعزیہ اور ان کا پھاٹک پھینکا، یہ فعل حرام ہے یا حلال؟ برائے کرم شریعت کی رو سے زید پر کیا حکم نافذ ہو جاتا ہے ، ارشاد فرمایا جائے تاکہ لوگ مطمئن ہوں۔ فقط ! محمد جعفر، پوسٹ مقام کھتیہ سرائے ضلع جونپور
الجواب: زمینداروں نے زید کے پردادا کو وہ زمین اگر اپنی ملک اور اپنے حقوق سے جدا کر کے ہبہ کر دی تھی اور اسے قبضہ دلایا تھا تو وہ زمین اس کے پردادا کی ملک ہو گئی اور اس کے بعد اس کے ورثہ کی ملک ہوئی اور ہبہ کنندگان کی وہ شرط باطل محض ہے پھر زید اگر اپنے مورث کا تنہا وارث ہے تو بیع صحیح ولا زم ہوگئی اور اگر زید کے علاوہ اور وارث بھی ہیں اور زمین میں وہ شریک ہیں تو دیگر ورثہ کے حصوں میں بیع ان کی اجازت پر موقوف ہے مگر سوال میں درج جملہ ، ” اس زمین سے فائدہ اُٹھاتے رہیں گے “ سے ظاہر یہ ہے کہ زمینداروں نے وہ زمین زید کے پردادا کو نہ دی، اگر یہ واقع ہے تو بیع باطل ہوگئی۔ مشتری پر زمین کو اس کے ورثہ کو دینا لازم اور زید کو قیمت واپس کرناضرور اور زید کے وہ کام اچھے ہیں جو اس نے تعزیہ کے ساتھ کیے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخان از هری قادری غفرله شب ۱۶ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ