ٹی وی پر نماز کی تشہیر، ایسی جماعت میں شرکت اور امام کے متعلق شرعی حکم
(1) جس نماز کوئی وی اسٹیشن سے مستقل طور پر پیش کیا جاتا ہو، ایسی جماعت میں معلوم ہونے کے باوجود شریک ہوسکتے ہیں یا نہیں ؟ (۲) امام اور مقتدی کو معلوم ہونے کے باوجود کہ نماز ٹی وی اسٹیشن سے شائع کی جائے گی، نماز پڑھ لی تو ان کے لئے شرع کا کیا حکم ہے؟ (۳) اگر امام کو معلوم ہونے کے باوجود کہ متواترٹی وی پر نماز پیش ہوتی ہے ، نماز پڑھاتارہے تو کیا ایسا امام گناہگار نہ ہو گا ؟ اور علی الاعلان گناہ کرنے والے امام کی اقتداء کرناکیسا ہے ؟ بینوا توجروا وو المستفتی: محمد امانت رسول رضوی، محلہ بھورے خاں، پیلی بھیت
الجواب: (۳،۲۱) نماز کوئی وی پر پیش کرنا دین کو تماشہ بنانا اور جاندار کی تصویر کشی کو رواج دینا اور خدا اور سول کو بہ حکم قرآن ایذا دینا اور لعنت الہی اوڑھنا اور آخرت کے عذاب مہین کا مستوجب بنتا ہے۔ ایسے لوگ آیت کریمہ " إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ اللهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْآخِرَةِ وَ أَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مھینا ) کے مصداق ہیں۔ حضرت عکرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ آیت کا مصداق تصویر کھینچنے، کھنچوانے والے ہیں کمافی الزواجر لابن حجر رحمہ اللہ ، تو وہ جماعت مجمع فساق و فجار ہے اور اس کا امام فاسق بد کار ہے تو اس جماعت میں شرکت ممنوع۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۵/ شوال المکرم ۱۴۰۱ھ دار الافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف