منکوحہ سفیر کا دوسرا نکاح حرام قطعی ہے!
بنام حضرت قبلہ مفتی صاحب، مدرسه منظر اسلام، بریلی حضرت قبلہ اختر رضا خانصاحب دامت برکاتہم العالیہ ! اسلام علیکم کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: تكملة (1) ایک پاکستانی عورت ۲ سال میں چند بار بریلی آئی، ناجائز طریقے سے رہی، اب ماہ جنوری ۱۹۸۱ء میں پھر آئی ۳ بچوں کو اور شوہر کو چھوڑ کر مورخہ یکم فروری ۱۹۸۱ء میں ہندوستانی شوہر سے نکاح کر لیا، جس کی عدت نہیں ہوئی ہے نہ ہی طلاق ہونے کا ثبوت شرعی ہے۔ لہذا آپ سے مودبانہ عرض ہے کہ حکم شریعت مطہرہ سے آگاہ فرمایا جاوے۔ (۲) مسجد کا امام جو کہ مسجد کی امامت کے کام انجام دیتا ہے ، اپنے وطن کا ایک ۴ سالہ لڑکا اپنے ساتھ رکھتا ہے اور اس کو ایک ہی لحاف میں سلاتا ہے، چند مرتبہ تاکید کرنے پر بھی اس نامناسب فعل سے احتیاط نہ کی ہے، لہذا بحکم شریعت مطہر مطلع فرمایا جاوے۔ (۳) جس قاضی یا امام مسجد نے یہ نکاح پڑھایا ہے اور جو دیگر اہل محفل اشخاص ولی زوج وکیل و گواہان و قاضی بنے ہیں، بحکم شریعت مطلع فرمایا جاوے کہ ہم مسلمانوں کو ان کے ساتھ کس طرح رابطہ رکھنا چاہئے ؟ ارشادر سول کے حکم سے واضح فرمایا جاوے۔ فقط المستفتی: خادم حافظ اسرار حسین رضوی ولد عبدالنبی تکیہ ،ماسٹر صدیق احمد وصابر حسین ساکن محلہ بہاری پور معماران، بریلی شریف
الجواب: (۳۱) اگر یہ واقعہ ہے کہ وہ عورت منکوحہ غیر ہے تو اس کا دوسرا نکاح حرام قطعی ہوا اور اگر اسے (جسکے ساتھ یہ نام کا نکاح ہوا) معلوم تھا کہ عورت منکوحہ غیر ہے جب تو نکاح باطل محض ہوا اور قربت خالص زنا اور دانستہ کام شر کاء مجلس بشمول قاضی و وکیل سب زنا کے دلال مستوجب عظیم و بال شد ید نکال الله متعال ہوئے۔ سب پر توبہ لازم ہے اور اگر اسے معلوم نہ تھا تو نکاح فاسد ہوا اور جب علم ہوا تو فورآًمتار کہ وجدائی فرض ہوئی اور تاخیر گناہ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس پر اس فعل سے فوری احتراز لازم ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله صح الجواب ۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء منظر اسلام، محلہ سوداگران ، بریلی شریف