مسجد میں گھنٹی بجانے اور ہندو سے گوشت خریدنے کا شرعی حکم
مسجد میں گھنٹی بجانانہ موم و ممنوع ہے ! دیانات میں کافر وفاسق کی خبر مقبول و مسموع نہیں ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ : (۱) رمضان شریف کے ماہ میں سحری کے وقت لوگ مسجد میں اس طرح گھنٹیاں بجاتے ہیں جیسے مندر میں بجائی جاتی ہیں جس سے مسجد کو مندر معلوم ہونے میں شک جاتا ہے۔ لوگوں کو اس فعل سے منع کیا گیا توانہوں نے ماننے سے انکار کیا۔ کیا مسجد کے اندر اس طرح گھنٹیاں بجانا جائز ہے ؟ (۲) اکثر قصبوں اور دیہاتوں میں اہل ہنود بکری کا ذبیحہ کسی مسلمان سے کرا کے اس کا گوشت بیچتے ہیں، ممکن ہو سکتا ہے کہ وہ اس میں غیر ذبیحہ بھی ملا دیں۔ کیا اہل ہنود سے بکری کا گوشت خرید ناجائز ہے ؟ چاہے وہ کہے کہ مسلمان کا ذبح کیا ہوا ہے۔ لطف النبی بیگ، محله با جداران، بریلی شریف
(1) في الواقع مسجد میں گھنٹی بجانے کی اجازت نہیں اور اس انداز پر بجانا جس طرح مندر کی گھنٹی بجتی ہے اور بھی سخت مذموم و ممنوع ہے۔ اعلان کے لئے دوسرا طریقہ اختیار کرلیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) اس کی اس بات کا شرع میں اعتبار نہیں کہ دیانات میں کا فرو فاسق کی خبر مقبول و مسموع نہیں ۔ لہذاوہ گوشت مسلم کو حلال نہ ہو گا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ