بیوی کی بہن سے زنا، پھوپھی سے زنا، اور حدِ زنا کے نفاذ کے متعلق احکام
زید نے بیوی کی بہن سے ہمبستری کی تواب اس کی بیوی کا کیا حکم ہے؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مندرجہ ذیل مسئلوں کے بارے میں: (1) کسی گھر میں ہندہ نام سے زید کا نکاح ہوا۔ زید اپنی سسرال جاتا رہا۔ ہندہ کی سگی بہن جو کہ ہندہ سے بڑی تھی، رفتہ رفتہ اس کے ساتھ زید کی محبت ہوگئی اور زید کی بدکاری سے ہندہ کی بہن کا حمل ٹھہر گیا، حتی کہ بچہ پیدا ہو گیا۔ ادھر اپنی بیوی کا بھی بچہ ہو گیا۔ تو کیا زید کی بیوی عقد سے جاتی رہی یا نہیں ؟ اگر نہیں تو زانی اور زانیہ کا کیا ہوگا ؟ (۲) زید اور ہندہ دونوں ایک گاؤں کے رہنے والے ہیں اور ہندہ زید کے رشتہ میں پھوپھی لگتی ہے، خوب خاص رشتہ نہیں اور نہ پڑوسی خاص طور پر ہے۔ زید نے ہندہ سے زنا کیا جس کی بنا پر ہندہ کا حمل ٹھہر گیا۔ اب پڑوس والے سوچتے ہیں کہ ہندہ سے زید کا نکاح ہو جائے گا یا نہیں ؟ اور زید کو درہ مارا جائے گایا نہیں ؟ برائے مہربانی کتاب فقہاء سے مع عبارات واضح کر دیں تاکہ جواب معتبر ہواور پڑوس والے بلاعذر مانیں۔ عین کرم ہو گا ! (۳) کسی مولینا صاحب نے اس کا فیصلہ کیا، زانی کو ۱۰۰ر درہ مارا، دس چھڑی ایک ساتھ باندھ کے مارا، دس چھڑی ایک ساتھ باندھ کے مارنا شریعت میں جائز ہے یا نہیں ؟ آہستہ مارنا چاہئے یا زور سے ؟ شریعت میں درہ مارنے کا کیا طریقہ ہے ؟ اور ہندوستان میں درہ مارا جائے گا یا نہیں ؟ مع حوالہ کتب وعبارات جواب دے کر شکریہ کا موقع دیں۔ حضور والا سے عرض ہیکہ برائے مہربانی کل سوالوں کے جوابات کتب صحیحہ سے دیں تاکہ کوئی اندیشہ نہ کر سکے۔ کیونکہ یہ فتاویٰ مغربی بنگال ضلع مرشد آباد جائے گا۔ آپ کا بہت شکریہ ہو گا، فقط۔ والسلام محمد معیز الدین حسین، ساکن بدر پور ، پوسٹ بہادر پور وا یہ بھگوان گولہ ضلع مرشد آباد، مغربی بنگال
الجواب: (1) زیر زانی و زمانیہ ( زید کی سالی ) اشد گناہ گار مستوجب نار ہیں، تو بہ کریں اور آئندہ ایک دوسرے سے پردہ کریں ، مگر اس فعل بد سے زید پر اس کی بیوی حرام نہ ہوئی ۔ خلاصہ میں ہے: وطئ اخت امرأته لا تحرم عليه امرأته . وہ بدستور اس کی بیوی ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نکاح ان دونوں کا باہم جائز ہے۔ در مختار میں ہے: صح نكاح حبلى من الزنا وان حرم وطؤها ودواعيه حتى تضع حملها وان نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا . اور اگر وہ محسن نہیں ہے تو شرعا اس کی حد سو کوڑے مارے جانا ضرور ہے اور اس کی سزا کی مستحق زانیہ اسی شرط سے ہے اور محصن و محصنہ کو رجم کا حکم ہے کہ اس عذاب سے رستگاری پائیں اور وہ آہستہ نہ مارا جائے گا بلکہ درمیانی ضرب ماری جائے گی اور دس چھڑی ایک ساتھ باندھ کر مارنے کا حکم نہیں۔ اور درمیانی ضرب سے مراد یہ ہے کہ نہ شدید کہ مہلک ہو نہ نرم کہ مقصد ہی حاصل نہ ہو، اور کوڑا بے پھل کا ہو یعنی شاخ دار نہ ہو، گانٹھوں والا اور مضروب کے سب کپڑے سوائے تہبند یا پائجامہ کے اتارے جائیں اور ضر ہیں سر، چہرہ ، و شرمگاہ چھوڑ کر پورے بدن پر لگائی جائیں اور مضروب کھڑا ہو، نہ کہ لیٹا ہو۔ ہدایہ میں ہے: وان لم يكن محصنا وكان حرا فحده مأة جلدة بامر الامام بضربه بسوط لا ثمرة له ضربا متوسطا، والمتوسط بين المبرج وغير المؤلم لا فقضاء الاول الى الهلاك وحلوا لثانى عن المقصود وهو الانز جار و ينزع عنه ثيابه معناه دون الازار و يفرق الضرب على اعضاءه الا رأسه ووجهه وفرجه و يضرب في الحدود كلها قائما غير ممدود، اهـ . (1) فتح القدیر میں ہے: والحاصل ان يجتنب كل من الثمرة بمعنى العقدة ومعنى الفرع الذي يصير ذنبين تعميما للمشترك الخ . ( واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرلہ صبح الجواب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ار شوال المکرم ۱۴۰۱ھ دارالافتاء منظر اسلام، محله سوداگران، بریلی شریف