حج کے پاسپورٹ کے لئے تصویر بنوانے کی شرعی حیثیت اور ضمیمہ سوالات
جلد ۱۰، صفحه ۴۶ تا ۵۰ / پر بابت تصویر قائم شدہ بقایا معارضات: ضمیمہ سوالات: فقیر سراپا تقصیر غفر له ربہ بجاه البشير النذیر صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وصحبہ وسلم نے یہ سوالات بہت عجلت میں تحریر کیسے اور وہ بھی اس وقت جبکہ سفر در پیش تھا پھر تسلسل سفر اور گوناگوں مصروفیات نے اب تک مہلت نہ دی کہ مزید سوالات تحریر کرتا۔ ادھر بعض احباب مخلص و کرم فرمانے مشورہ دیا کہ یہ سوالات بہت کافی ہیں، پہلے انہیں جانے دو، یوں بھی یہ بات تادم تحریر ملتی رہی۔ مگر فقیر برابر یہ محسوس کرتا رہا کہ ہنوز کچھ سوالات باقی ہیں جو کر لینا چاہئے ، اگر چہ سوالات گزشتہ بفضلہ تعالیٰ اظہار حق و صواب کے لئے کافی اور فاضل مجیب سلمہ القریب المجیب (جن سے گفتگو جاری ہے) کے فتویٰ کا جواب شافی ہیں۔ پھر مزید سوالات جو خاطر فاتر میں آتے جائیں رقم ہوتے جائیں۔ وما توفیقی الا بالله عليه توكت واليه أنيب۔ (۱۸) یہ سوال ۸ / سے متعلق ہے، میں نے سوال ۸/ میں گزارش کیا تھا کہ ”اس سے ظاہر کہ مجیب فاضل مدظلہ کے نزدیک یہ قول اخیر راجح ہے مگر میں بھولا۔ مجیب سلمہ القریب المجیب اس سے پہلے قول مندرجہ بالا کی تائید میں یوں فرما چکے ہیں کہ ” حج اگر چہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں تصویر خود ایک مانع شرعی ہے “، اس ارشاد سے ظاہر کہ مجیب کے نزدیک یہ قول (جس کا صاف صریح مفاد خود مجیب صاحب نے لکھا کہ ” پہلی صورت میں جس طرح کی تصویروں کی حرمت ظاہر کی گئی ہے ، اگر حج فرض ادا کرنے کے لئے پاسپورٹ وغیرہ میں لگانے کے لئے بھی بنائی جائیں جب بھی حرام ہیں۔ لہذا اگر پاسپورٹ پر تصویر لگائے بغیر فریضہ حج نہ ادا کیا جا سکے توج تو ترک کر دیا جائے گامگر تصویر نہیں کھنچائی جائے گی“ راج ہے۔ اس لئے کہ اس قول کی مجیب نے بایں الفاظ تعلیل و تائید فرمائی کہ "حج اگرچہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں
تصویر خود ایک مانع شرعی ہے “ اس لئے کہ قاعدہ مسلمہ ہے کہ ”التعلیل دلیل التعويل “ پھر تعجب تو یہ ہے کہ اس قول اخیر کو جب اختیار فرمانے کو چلے تو بھی پہلے قول مندرجہ بالا مانع جواز تصویر کی تائید یوں فرمادی کہ ”ویسے تو تصویر کشی کی حرمت کا وہی حال ہے جو پہلی صورت سے ظاہر ہے “۔ یہاں سے ظاہر کہ مجیب صاحب کے نزدیک وہ قول بھی رائج ہے جس میں تصویر کی اجازت فریضہ حج کے لئے نہیں اور وہ بھی راجح ہے جس میں تصویر کی اجازت ہے کہ دونوں کی مجیب نے تعلیل و تائید فرمائی اور پہلے قول کی تائید و تعلیل تو بہت زور دار فرمائی اور دوسرے قول کی دلیل ایسی نہ دی جس سے پہلے قول کا ضعف ظاہر ہوجاتا جیساکہ ہم نے پہلے بھی گزارش کی، اب گزارش ہے کہ مجیب صاحب کا کھلا تضاد ہوا کہ نہیں ؟ (۱۹) مجیب نے یہ فرمایا کہ ”ویسے تو تصویر کشی کی حرمت کا وہی حال ہے جو پہلی صورت سے ظاہر ہے ، اسی کے مشکل فرمایا کہ انگر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے اگر تصویر کھنچانا نا گزیر ہو تو پھر وہ جائز ہے"۔ اس پر مجیب صاحب بتائیں کہ جب تصویر کشی کی حرمت کا وہی حال ہے جو مجیب صاحب خود بتا چکے ہیں کہ ”اگر حج فرض ادا کرنے کے لئے پاسپورٹ وغیرہ میں لگانے کے لئے بھی بنائی جائیں جب بھی حرام ہیں تو یہ کہنا کہ "مگر فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے ۔ الخ " کیسے صحیح ہے ؟ اور یہ بھی مجیب کا تضاد ہوا کہ نہیں ؟ (۲۰) اور متصلا ہی یہ فرمایا کہ ” الضرورات تیج المحظورات میں داخل ہے “ کیسے درست ہے کہ جناب مجیب صاحب اپنا کہا بھول گئے، ابھی تو کہا تھا کہ ”حج اگر چہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں تصویر خود ایک مانع شرعی ہے “، وہ کون سی ضرورت ہے جو مانع شرعی کے ہوتے ہوئے بھی موجود ہوتی ہے ؟ بیان فرمائیے۔ (۲۱) مجیب صاحب نے قول اخیر کو اختیار فرمایا کہ فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے تصویر کی اجازت دی پھر اس کی دلیل یوں دی کہ ” الضرورات تیج المحظورات میں داخل ہے " پھر اسی کے متصل فرمایا: ” اس لئے کہ حج کی فرضیت قطعی ہے اور تصویر کشی کی حرمت ظنی ہے، یہ دلیل کی دلیل ہوئی، مجیب صاحب فرمائیں کہ ان کے اس جملہ کو تحقق ضرورت میں کیا دخل ہے ؟ اگر کچھ دخل نہیں تو اس کو لکھنے سے کیا حاصل ؟ (۲۲) خیر ! اُن کا یہ جملہ صاف بتا رہا ہے کہ ان کی ضرورت بغیر اس قاعدہ مذکورہ کے پوری نہیں ہوتی۔ اب اس قاعدہ کا اثبات مجیب صاحب کے ذمہ اُدھار ہے جس کا مطالبہ مکرر ہوا اور انہی کے بولوں سے صاف آشکار کہ ضرورت کا ثبوت بھی اُدھار کہ ابھی تو وہ قاعدہ مجیب نے یوں ذکر کیا کہ ”جب کبھی فرض قطعی کے مقابلے میں حرمت ظنی آئے تو فرض کو ترجیح دی جائے گی “ ہی ثابت نہیں ۔ (۲۳) مجیب سلمہ القریب الحجیب کو خود اقرار ہے کہ "حج اگر چہ فرض ہے مگر ادائیگی کی راہ میں تصویر خود ایک مانع شرعی ہے “ اس اقرار کی روشنی میں مجیب صاحب بتائیں کہ اس مانع شرعی کے ہوتے ہوئے ادائیگی حج کی فرضیت کب رہ گئی؟ اور جب ادائیگی حج کی فرضیت ہی نہ رہی تو تصویر کھنچوان نا گزیر کیسے ہوا؟ اور جب مانع شرعی قائم ہے تو تصویر کی اجازت کہاں سے آئی؟ اور اگر مانع شرعی قائم نہ رہا توکیوں ؟ پھر معروض ہے کہ ضرورت کی آڑ نہ لیجئے گا کہ یہی تو تسلیم نہیں ۔ (۲۴) پھر مجیب صاحب بتائیں کہ جب مانع شرعی قائم ہے تو فوٹو کھنچوانے میں حرج ہے یا ادائے حج کو موقوف کرنے میں ضر ر ہے ؟ بر تقدیر ثانی وہ کون ساضر ر دینی یا دنیوی ہے ؟ اسے کتب مستنده معتمدہ وادلہ کافیہ سے مبرہن فرمائیے اور اگر اس کا ثبوت بہم نہ پہنچے اور ان شاء اللہ کبھی ثابت نہ ہوگا تو قطعا فوٹو کھنچانے میں حرج ہے اور حرج شر حامد فوع ہے تو ضرورت تو ہے مگر کس کی ؟ ادائے حج کو موقوف کرنے کی، تاوقتیکہ یہ شرط ناجائز معدوم ہو کہ اس کے سبب مسلمانوں کو دینی ضرر ہے نہ کہ ادائے حج کی ضرورت کہ اس شرط ناجائز کے ہوتے ہوئے ادائیگی حج سے باز رہنے میں اصلاً کوئی ضرر ہی نہیں۔ لہذا اس مسئلہ میں مجیب صاحب کا ضرورت سے استدلال کیونکر درست ؟ (۲۵) کیا مجیب صاحب کوئی جزئیہ ایسا دکھا سکتے ہیں کہ فرائض کی تعمیل اگر محرمات کے ارتکاب پر موقوف کر دی جائے ، محرمات محرمات نہ رہیں گے بلکہ ضرورت کے تحت مندرج ہو کر وہ بھی فرائض ٹھہریں گے ؟ (۲) فریضہ حج کی ادائیگی کے لئے تو تصویر کھنچانا یوں جائز فرمایا ہو گا کہ فریضہ حج کی دا ضرور ہے مگر نفلی حج تو اصلا نہیں اس کے لئے فوٹو کھنچانا کیونکر جائ ہوا اور "الضرورات منیج المحظورات " میں کیسے داخل ہو گیا؟ ع (۲۷) پر مٹ ولائسنس کے حصول پر کیا ہمارے معاشی و اقتصادی ذرائع موقوف ہیں ؟ ظاہر ہے کہ اس کا جواب نفی میں ہو گا اور جب تمام ذرائع اس پر موقوف نہیں تو دوسرے ذرائع جائزہ جن میں یہ نا جائز نہ ہو، کے ہوتے ہوئے ضرورت ہی کب متحقق ہوئی؟ اور جب ضرورت متحقق نہ ہوئی تو فوٹو کھنچانا کب ناگزیر ہوا؟ یوں ہی تبلیغ کے لئے فلاں صاحب کب متعین ؟ اور جب وہ متعین نہیں تو تبلیغ اس جگہ ان پر موقوف نہیں تو ضرورت متحقق نہیں۔ پھر مجیب صاحب کا کہنا کہ ”اگر تصویر نکالناناگزیر ہو۔الخ غیر ضرور کو ضروری بنانا ہے کہ نہیں ؟ (۲۸) معاشی و اقتصادی خوشگواری وغیرہ (جس کا ذکر مجیب نے کیا ہے) منفعت ہے یا ضرورت؟ بر تقدیر ثانی اسے مبرہن فرمائیں۔ بر تقدیر اول منفعت اور ضرورت وحاجت کا مجیب کے نزدیک کیا ایک ہی حکم ہے؟ (۲۹) مجیب صاحب نے آگے چل کر خود اقرار فرمایا ہے کہ قوت لایموت کی موجودگی کی صورت میں اسے مضطر کے خانہ میں نہیں رکھا جا سکتا اور حالت اضطرار والوں کے لئے جو ایک شرعی رخصت ہے، اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتا، اور یہاں محض خوشگواری کو ضرورت ٹھہرادیا اور اس کے لئے تصویر نکالنا ناگزیرمان کر جواز کا حکم دے دیا۔ یہ تناقض نہیں ہے تو اور کیا ہے ؟ (۳۰) کیا اعلائے کلمتہ الحق فوٹو غیرہ محرمات پر موقوف ہے؟ اور دوسرے تمام ذرائع جن میں فوٹو کھنچانا نہ پڑے، مسدود ہو گئے ہیں ؟ (۳۱) کیا علماء و مشائخ کا ہر فعل حجت ہے اگر چہ ظاہر آخلاف شرع ہو ؟ مصر وغیرہ میں عام طور پر علماء و مشائخ داڑھی نہیں رکھتے ، کیا ان کا یہ فعل داڑھی منڈانے اور کتروانے کے لئے سند جواز ہو جائے گا؟ (۳۲) ان داڑھی منڈے علماء کی آڑ لے کر اپنی اس خلاف شرع حرکت پر کوئی یوں پردہ ڈالے جیسے مجیب نے کہا ” میرے علم میں ہند و پاک بلکہ عرب و عجم میں علماء کی اکثریت اس خیال کی تائید و توثیق کر رہی ہے ، اس کی یہ حجت شرعا صیح و معتبر ہوگی یانزی حجت ؟ بر تقدیر اول اس کا صاف صریح مطلب یہ ہو گا کہ جس خلاف شرع پر اکثریت ہو جائے وہ خلاف شرع نہ رہے بلکہ جائز ہو جائے تو مجیب صاحب کی اس دلیل سے داڑھی منڈانا حد شرع سے کم کر انا ترک جماعت وغیرہ جن میں اکثریت مبتلا ہے سب کا جائز ہونالازم آتا ہے اور بر تقدیر ثانی اکثریت سے استدلال غیر صحیح اور قطعاظاہر ہے کہ خلاف شرع پر اکثریت کتنی ہی ہو جائے ہرگز جائز نہ ہو گا بلکہ خلاف شرع ہی رہے گا تو جب تک شرع سے جواز ثابت نہ ہو، اکثریت سے استدلال کیا معنی؟ (۳۳) کوئی داڑھی منڈا ان بے عمل علماء کی آڑ لے کر اپنے فسق و فجور پر پردہ ڈالنے کو یوں کہے کہ ”ایسوں کو بیک جنبش قلم فاسق و فاجر حرام کار و زبوں کردار قرار دینے کے لئے ہوش و حواس کی سلامتی کے ساتھ دل و دماغ کیسے راضی ہو سکتے ہیں تو کیا مجیب صاحب اسے اس کی اجازت دیں گے یا اس کا منہ بند کریں گے ؟ اور منہ بند کریں گے تو کیسے ؟ وہ نہ کہے گا کہ میں نے آپ ہی کی روش اختیار کی ہے ؟ (۳۴) معاشی و اقتصادی خوشگواری وغیرہ جو اسباب مجیب نے ذکر کیے کیا مجیب کے نزدیک ان اسباب کے لئے داڑھی منڈانا جائز ہوگا ؟ (۳۵) آج کل داڑھی منڈانا، مخلوط تعلیم، سنیما وغیرہ ترقی پسندی اور تہذیب شمار کیا جاتا ہے تو کوئی ترقی پسند اگر یوں کہنا چاہے کہ ہر دور میں دوسری قوموں پر کسی قوم کی برتری اور اس کے عروج و ارتقاء کے اسباب الگ الگ ہیں ۔ الخ تو کیا مجیب صاحب کہنے دیں گے ؟ (۳۶) وہ کون سے معاشی و اقتصادی علمی و فنی تہذیبی و سیاسی مقاصد ہیں جو بغیر فوٹو حاصل نہیں ہو سکتے ؟ اور یہ بھی بتایا جائے کہ وہ مقاصد خود ضرورت شرعیہ ہیں یا نہیں ؟ ہیں تو کس دلیل سے ؟ نہیں تو ان کے لئے فوٹو کھنچوانا کب ضرورت شرعیہ ہو سکتا ہے؟ (۳۷) اور جب ضرورت شرعیہ یہاں متحقق نہیں تو مجیب صاحب کا یہ کہنا کہ ان سب کو ضرورت شرعیہ کے دائرے سے نکال دینا یقینا غیر معقول اور حالات زمانہ سے بے جا چشم پوشی ہے حضور مفتی عظم ہند و حافظ ملت و رئیس الاتقیاء مولانا افضل الدین حیدر صاحب (علیہم الرحمۃ والرضوان) کو خصوصاً الزام دینا ہے کہ نہیں ؟ (۳۸) یہ کون سی صورت اعلاء کلمتہ الحق کی ہے کہ جو شرط خلاف شرع عائد ہو اس کے لئے زبردستی گنجائش نکالیے اور اس کی مخالفت نہ کیجئے۔ بفضلہ تعالیٰ ان سوالات سے واضح کہ حق وہی ہے جو امام مقدم ہمام معظم مفتی اعظم ہند و غیرہ علماء محتاطین نے فرمایا کہ بے ضرورت شرعیہ ملجئہ فوٹو کھنچوانا حرام۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضاخاں از هری قادری غفرله شب ۱۲ جمادی الآخر ه ۱۴۰۵ھ