ظفر ادیبی کی گستاخیوں اور ان کے بائیکاٹ کے متعلق عوامی انتشار کا حل
ظفر ادیبی کے متعلق ایک سوال کا جواب ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: ظفر ادیبی کا معاملہ لے کر خضر پور رائے گنج کے عوام میں خاص کر اہل طریقت کے اندر انتشار پیدا ہو گیا ہے ایک گروہ کا کہنا ہے کہ ظفر ادیبی گستاخ اعلیٰ حضرت و گستاخ مفتی اعظم ہند دامت برکاتہم القدسیہ ہے ان کے گستاخ ہونے کے سبب حافظ ملت علیہ الرحمہ نے اپنی حیات مبارکہ میں اس کا بائیکاٹ فرما یا تھا اور خاص کر علمائے بریلی شریف اور ان کے عقیدت مندوں نے اس کا بائیکاٹ کیا نیز دوسرے گروہ کا کہنا ہے کہ جب اس قسم کا معاملہ ہے تو پھر علمائے بریلی شریف علی الاعلان فتویٰ صادر کیوں نہیں فرماتے جبکہ بار ہا مفتی عبد المنان اور دیگر محتاط علماء اس کے ساتھ تقریر کرتے ہیں تو کیا ان کے لئے حافظ
الجواب: یہ سنا جاتا ہے کہ حافظ ملت علیہ الرحمۃ والرضوان نے ظفر ادیبی صاحب کو اشرفیہ سے اس لئے برطرف فرما یا تھا کہ انہوں نے حسام الحرمین کے ان مبارک فتاویٰ کی تصدیق سے انکار کر دیا تھا جن میں علمائے حرمین شریفین و مصر و ہند وسندھ نے دیو بندیوں کو ان کی کفری عبارات کے سبب ایسا کا فربے دین فرمایا کہ جو دانستہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے (۱) یہ خبر اتنی مشہور ہے کہ علمائے اہل سنت عموما ان سے برکراں وعلیحد ہ ہیں ۔ اگر واقعہ بھی یہی ہے جوان کے بابت مشہور ہے تو ان پر بھی حسام الحرمین کا فتویٰ نافذ ہوگا۔ فی الواقع ہر وہ شخص جو دیو بندیوں کے کفریات پر مطلع ہو کر انہیں کافر نہ جانے وہ انہیں کی طرح ہے۔ اور اگر واقعہ ایسا نہیں بلکہ وہ دیو بندیوں کو کافر جانتے ہیں جیسا کہ فقیر نے دوسری خبر پر سنی تو ان پر وہ حکم نہیں اس صورت میں ان کے متعلق اس کے برخلاف جو مشہور ہوا اس کی تردید بھی لازم ہوگی ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۸ / جمادی الاخری ۱۴۰۱ھ