بد مذہب کے نام کے ساتھ رحمتہ اللہ عیہ لکھنایا بولنا کیسا؟ اور اس کی امامت کیسی؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین بیچ اس مسئلہ کے: ایک مولوی صاحب (زید) سنی مدرسہ میں زیر تعلیم ہیں۔ اور مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔ بلکہ سنیت کا پر چار کرتے ہیں اور اکابرین دیابنہ کے عقائد سے بھی بخوبی واقف ہیں گے۔ ایک بار جمعہ میں تقریر کرتے ہوئے واقعہ معراج شریف بیان کیا۔ اور ایک جگہ یوں کہا کہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمتہ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا جو کہ چند سنی العقیدہ حضرات کو انتہائی ناگوار گزرا پھر کچھ مقتدیوں کے سامنے پوچھا گیا۔ تو مولوی صاحب نے فرمایا کیا ہوا؟ ہمارے علمائے اہل سنت بھی اپنی کتابوں اور تقریروں میں لکھتے ہیں اور ایسا ہی کہتے ہیں اور مخصوص نام حضرت علامہ الحاج مولانا محمد شفیع صاحب اکاڑوی مدظلہ ( مقیم کراچی ) کا لیا۔ وہ بھی انہیں رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں پھر کہنے لگے کہ مجھ سے یہ غلطی سہوا ہوگئی ہے۔ کیا ہمارے علماء (سنی) ان دیلینہ کے لئے رحمتہ اللہ علیہ کہ اور لکھ سکتے ہیں؟ اور آیا ان لوگوں (دیوبندیوں ) کو ایسے کہنا جائز ہے؟ اور واقعہ مذکورہ کے بعد مولوی صاحب کے پیچھے جو نمازیں ادا کی گئیں اور پڑھی جارہی ہیں اور آئندہ نمازوں کے بارے میں کیا حکم ہے؟ اور کیا ایسا شخص قابل امامت ہے؟ خدا را اس سوال پر پوری طرح غور فرماتے ہوئے حکم شرع سے آگاہ فرمائیں۔ بینوا توجروا عبدالشکور قادری رضوی واراکین بزم رضا
الجواب: فی الواقع اگر وہ شخص دیابنہ ملاعنہ کے عقائد کفریہ سے واقف ہے جیسا کہ درج سوال ہوا تو صاف ظاہر کہ وہ انہیں میں سے ہے اور اس کا اشر فعلی کو حضرت مولا نارحمتہ اللہ علیہ کہنا ناواقفی کی بنا پر نہیں بلکہ دانستہ از راہ عقیدت کہا اور اس کا یہ کہنا کہ ہمارے علمائے اہل سنت بھی۔ الخ محض جھوٹ اور سفید جھوٹ ہے اس پر پردہ ڈالنے کے بعد کہتا ہے کہ مجھ سے یہ غلطی ہوگئی۔ غرضیکہ دیو بندیوں کے عقائد کفریہ پر اطلاع رکھتے ہوئے انہیں کافر نہ جاننے والا بلکہ ان کے کفر میں ادنی شک کرنے والا اور انہیں مقتدائے دینی امام و پیشوا جاننے ماننے والا کافر ہے ، علمائے حرمین شریفین و ہند وسندھ سب کا متفق علیہ فرمان ہے: من شک فی کفره وعذابه فقد کفر (۱) اس کا مفصل بیان حسام الحرمین میں ہے، درمختار میں ہے: تبجيل الکافر کفر (۲) ایسے کی اقتداء میں نماز باطل ہے۔ درمختار میں ہے: وان انكر بعض ما علم من الدين ضرورة كفر بها فلا يصلح الاقتداء به اصلا (۳) جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھیں ان کا اعادہ ضرور اور آئندہ احتیاط جب تک تو بہ صحیحہ نہ کرے بعده صلاح حال ظاہر نہ ہو اس کی اقتدا میں نماز پڑھنے سے بچنا لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۹ ررمضان المبارک ۱۳۹۶ھ