اشرف علی تھانوی کی کفری عبارت اور دیوبندی نواز سے مسئلہ پوچھنے کا حکم
کرتا ہے؟ اور مسئلہ بھی غلط بتاتا ہے کیا ایسے فاسق معلن کے بتائے ہوئے مسئلہ پر کیا عمل کیا جائے یا نہیں؟ اور انہیں بتانے کی اجازت ہے یا نہیں ؟ حدیث کی روشنی میں تفصیل سے جواب عنایت فرمائیں۔ غلام مصطفی اشرفی محل کنگھر، بریلی شریف
الجواب: اثر فعلی نے حفظ الایمان میں صاف لکھا کہ ” آپ کی ذات مقدسہ پر علم غیب کا حکم کیا جانا بقول زیدا گر صحیح ہے اس عبارت کا صاف مطلب یہ ہے کہ اشرفعلی کے نزدیک حضور علیہ اصلاۃ و السلام کوعلم غیب نہیں۔ جبھی تو کہا بقول زید اگر صحیح ہو، پھر جملہ سابقہ کے متصل کہا ” تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس سے مراد کل غیب ہے یا بعض غیب - الی قولہ، اگر بعض غیب مراد ہو تو اس میں حضور کی کیا تخت یا تخصیص ایسا علم غیب تو زید و عمر و بلکہ ہر صبی و مجنون بلکہ جمیع حیوانات و بہائم کو بھی حاصل ہے“۔ [ حفظ الایمان ص ۱۵ ، دار الکتاب ] پہلے حضور علیہ السلام سے علم غیب کی نفی کی پھر مانا توعلم حضور علیہ السلام کے علم کوزید وعمرو بلکہ ہر بچے ہر پاگل ہر جانور ہر چوپائے کے علم کے برابر کہا۔ اور اس طرح اثر فعلی نے حضور علیہ السلام کی وہ تو ہین کی جو سب پر آشکار ہے اور اس کے تو ہین ہونے کا خود اثر فعلی کے وکیل مرتضی حسن دربھنگی کو اقرار ہے دیکھو اشد العذاب۔ اسی لئے حسام الحرمین میں علمائے مکہ و مدینہ و مصر و شام و ہند وسندھ سب نے اس کے لئے اور تمام وہابیہ کے لئے حکم فرمایا: ” من شک فی کفره و عذابه فقد کفر “ یعنی ان کے کفریات جان کر ان کے کفر میں اور عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے۔ زید بے قید کی دیوبندیت نوازی اور حیلہ سازی اس کی بات سے ظاہر ہے اور اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کو جھوٹا کہنا خودان کا بہتان ہے زید بے قید دیو بندی ہے اس سے سخت احتر از فرض ہے اور اس سے مسئلہ پوچھنا حرام بد کام کفر انجام۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۲ رذی الحجہ ۱۳۹۹ھ