غیر مسلم کو تعویذ دینا، ہندو کے جنازے میں شرکت، توہینِ قرآن اور امام سے بدگمانی کا حکم
(۲) اگر کوئی ہندو بیمار ہو تو اس کو ٹھیک ہونے کے لئے دعا کرنا چاہئے اور پانی وغیرہ تعویذات شفاء کے لئے دینا درست ہے یا نہیں ؟ اسی طرح اگر کوئی ہندو مر جائے تو اس کے ساتھ مرگھٹ تک مسلمان چلا جائے تو اس کے لئے کیا حکم ہے؟ (۳) ہمارے یہاں کے ایک شخص نے کلام اللہ وشریعت کو برا کہا یعنی بدزبانی بولا تو اس شخص کے لئے شریعت کا کیا حکم ہے؟ (۴) ہمارے یہاں ایک مولوی صاحب جو کہ سنی صحیح العقیدہ ہیں ان سے ایک صاحب نے کسی کے کہنے سننے پر بغیر مولوی کی تحقیق کے بدگمانی پیدا کر لی۔ اور ان کے پیچھے نماز بھی پڑھنا چھوڑ دی ہے تو ان صاحب کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جنہوں نے ان صاحب کو شک میں ڈالا ہے، شریعت کا کیا حکم ہے؟ عبدالمجید، پیلی بھیت
الجواب: (1) وہابیہ دیابنہ اور نام نہاد اسلامی جماعت والے مرتد ہیں اور مرتد سے معاملت نا جائز ہے۔ یہی حکم ان سے اور بد مذہب سے سلام و کلام و مصافحہ و معانقہ کا ہے اور ضرورت شرعیہ یعنی جس کے بغیر چارہ نہ ہو، ہر جگہ مستی ہے اور ایسی ضرورت بہت نادر ہوگی اس کے سوا مجبوری کوئی چیز نہیں ۔ اور کا فراصلی سے تجارت کے معاملات جائز ہیں دوستی ان کے ساتھ بھی منع ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳،۲) شفاء کے لئے تعویذ دینا جائز ہے اس نیت کے ساتھ کہ کہیں مسلمان ہو جائے اور اس کے مردہ کے ساتھ مرگھٹ تک جانا حرام بد کام بد انجام ہے اور قرآن عظیم کو برا کہنا کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) بدگمانی حرام ہے اور اس کی بنا پر امام کی اقتداء چھوڑنا بھی ۔ جولوگ بے ثبوت شرعی امام کو ملزم گردان رہے ہیں سخت گنہ گار مستحق نار ہیں۔ اللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صبح الجواب والمولیٰ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی ۲۰ ذیقعده ۱۳۸۸ھ