جو کہے کہ ہم دونوں طرف ہیں وہ سنی نہیں !
منبع کمالات و فضائل محترم المقام واجب الاحترام جناب مفتی صاحب زید مجد کم ! السلام علیکم، مزاج شریف! بعدۂ عرض اینکہ ایک مسجد میں ایک امام جو قلیل عرصہ سے امامت کر رہے ہیں اور وہ مسجد اہل سنت والجماعت کی ہے اس مسجد میں ایک دن تبلیغی جماعت والے کی آمد کی امید تھی ایک شخص جو اہل سنت والجماعت کا عقیدہ رکھتا ہے وہ امام صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا اور دریافت کیا کہ معلوم ہوا ہے کہ اس مسجد میں جماعت آنے والی ہے۔ اگر مسجد میں جماعت آ گئی تو مقتدی کم ہو جائیں گے لہذا آپ منع فرمادیں ، امام صاحب نے عرض کیا کہ میں منع کر چکا ہوں ویسے تو ہم دونوں طرف ہیں جیسا ماحول دیکھتے ہیں ویسا کام کرتے ہیں۔ میں خود تبلیغی جماعت میں جاتا ہوں جبکہ مسجد میں نمازی کثرت سے آتے ہیں فی الوقت مسجد میں خلفشار پھیلا ہے کچھ مقتدی حضرات نے مسجد جانا ترک کر دیا ہے۔ لہذا ایسے امام کے لئے کیا فتویٰ ہے؟ ۔ آپ برائے کرم جلد تحریر فرما ئیں ۔ مع سند کے مع مہر کے۔ فقط ۔ والسلام
الجواب: از سنی دفتر ، امیٹھی لکھنؤ دونوں طرف ہونے والاسنی نہیں ہوگا بلکہ مکار وہابی ہوگا اس کی اقتدا سے پر ہیز کریں اور اس کی صحبت سے دور ہوں اور اس کے عقائد کی تحقیق کریں اگر وہابی دیو بندی یا دیو بندی کو دانستہ مسلمان جانتا ہو تو انہیں کی طرح حسب فتویٰ علمائے حرمین شریفین کا فربے دین ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۱۰ رجب المرجب ۱۴۰۶ھ قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی مرکزی دارالافتاء، ۸۲/سوداگران، بریلی شریف