جمعہ کے دن صلوۃ وسلام پڑھنے کی شرعی حیثیت اور اس کے تارک کا حکم
جمعہ کے دن صلوۃ وسلام پڑھنا کیسا؟ جمعہ کے دن صلوۃ وسلام کے تارک کو وہابی کی طرح حقارت کی نظر سے دیکھنا کیسا؟ کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ: جمعہ کے دن صلوۃ وسلام پڑھنا کیسا ہے؟ واجب یا فرض یا سنت یا مستحب؟ زید جو کہ جمعہ کے دن صلوۃ وسلام پڑھنے کو واجب کا درجہ دیتا ہے اور انکار تو الگ کی بات ہے ترک کو بھی بہت بڑا اور تارک کو وہابی کی طرح حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ نیز عمر واس کے خلاف واشد مخالف ہے اس کا کہنا ہے کہ جمعہ کے دن یا اور کسی دن صلوۃ وسلام پڑھنا مستحب و افضل و باعث خیر و برکت ہے۔ نزول رحمت خداوندی کا سبب ہے نہ کہ واجب کہ جس کا نہ کرنا گناہ ومستحق عتاب ۔ اب جبکہ جمعہ کے دن کچھ لوگ نہیں پڑھتے تو ان کی نماز میں خلل واقع ہوتا ہے ایسی صورت میں نماز جمعہ یا نماز فجر بعد صلوۃ وسلام کا نہ پڑھنا ہی بہتر ہے۔ اگر صلوۃ وسلام پڑھنا ہی مقصود ہو تو کسی خاص محفل میں جیسے کہ ذکر میلاد شریف یا قرآن خوانی و عرس وغیرہ میں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ان میں حق پر کون ہے؟ زید یا عمرو؟ مسائل شرعیہ کے تحت بیان
الجواب: صلوۃ وسلام بعد نماز جمعه، فجر وغیرہ مستحب ومندوب و معمول اہل سنت ہے، واجب نہیں۔ زید اگر اسے واجب خیال کرتا ہے تو سراسر خطا ہے اور انکار منکر کا منشا سمجھے بغیر ہر منکر کو وہابی کہنا بہت سخت جرات ہے جس سے احتراز لازم ہے اور تو بہ فرض ہے۔ وہابی وہ ہے جو اصلاً صلوۃ وسلام کو روانہ جانے بلکه نا جائز وحرام و بدعت سیئہ مطلقاً گردانے اور جو اسے مستحب و مستحسن مانتا ہے مگر اس وقت اس سے منع کرتا ہے جب لوگ نوافل و سنن میں مشغول ہوں کہ تشویش نہ ہو تو محض اتنی بات پر اسے وہابی سمجھنا حرام بد کام بدانجام ہے۔ بیشک سنی صحیح العقیدہ مصلیان کا لحاظ ضروری ہے۔ لہذامصلیوں کے فراغ کا انتظار ضروری ہے۔ یا اتنی آواز سے پڑھیں کہ انہیں تشویش نہ ہو اور سنی صحیح العقیدہ کی قید سے ظاہر ہے کہ مصلیان اگر وہابی دیوبندی ہیں تو انکا لحاظ اصلاً جائز نہیں۔ بلکہ باوصف قدرت انہیں مسجد میں آنے دینا ہی جائز نہیں ہے چہ جائیکہ ان کی صفوں کے بیچ کھڑے ہونے سے قطع صف کا گوارا کرنا اور اس طرح خود قطع صف کا سبب بن کر مستوجب وعید شدید ہونا۔ والعیاذ باللہ تعالی۔ وھو تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله