وہابی کی فیکٹری میں ملازمت کی بنا پر رشتہ توڑنے اور بدعہدی کا حکم
مسئله - ۱۳۳ مرتد سے معاملت جائز نہیں! زید کی نسبت عمرو کی لڑکی سے لگی ، طرفین کی رضامندی سے تاریخ دن مقرر ہوئی ، شادی سے ایک دن قبل یہ کہا گیا کہ زید کا بچاو بابی کی فیکٹری میں ملازم ہے۔ لہذا ہم اپنی لڑکی کی شادی زید کے ساتھ نہیں کریں گے۔ زید کے چانے خود جا کرعمرو وغیرہ سے کہا کہ ملازمت تو کسی بھی غیر مسلم کی ناجائز نہیں۔ پھر ہم اور ہمارا سارا خاندان سنی صحیح العقیدہ ہیں اور اعلیٰ حضرت قدس سرہ کے سلسلہ میں بیعت ہیں۔ بہر حال عمرو وغیرہ راضی ہو گئے اور ایک ہفتہ بعد کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ پھر ایک دن قبل لڑکی کی والدہ نے آکر کہا کہ جب تمہارے چا کی لڑکی کی شادی عید کے مہینے میں ہوگی تب ہم دیکھیں گے کہ ان کے یہاں کوئی وہابی تو نہیں شریک ہوتا ہے؟ تب ہم اپنی لڑکی کی شادی زید کے ساتھ کریں گے ۔ اس کشمکش میں زید کی کافی رقم خرچ ہو گئی ان حالات کے پیش نظر عمرہ کا فعل کہاں تک درست ہے؟
الجواب: اگر عمرو کو پہلے سے معلوم تھا کہ زید کا چاوہابی کی فیکٹری میں ملازم ہے تو اس وقت منع نہ کر کے شادی سے ایک دن پہلے منع کرنا دھوکہ دینا اور بدعہدی کرنا ہے جو جائز نہیں اگر یہی باعث انکار تھی تو اس کو پہلے ہی منع کر دینا چاہئے تھا کہ شادی کی تیاری میں بہت بے جا مصارف سے بچ جاتا۔ اگر چہ اس رو سے نکاح میں خلل نہیں اس کے برعکس زید کے چا کا یہ کہنا کہ ملازمت تو کسی بھی غیر مسلم کی ناجائز نہیں، غلط و باطل ہے اور جہالت سے ناشی ہے وہابیہ زمانہ اکثر مرتدین ہیں یا مرتدین دیابنہ کو اپنا پیشوایاکم ازکم مسلمان جانتے ہیں، یہ کفر ہے اور مرتد سے معاملت جائز نہیں۔ تو اسے دیگر غیر مسلم پر قیاس کرنا جہالت ہے جس سے تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله لقد اصاب من اجاب۔ واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی