اشرف علی تھانوی کی تکفیر میں شک کرنے والے کا حکم اور ایسی لڑکی سے نکاح کی حیثیت
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کی شادی ایک ایسی لڑکی سے ہوئی ہے جو ایک ایسے عالم سے بیعت ہے جو شر فعلی تھانوی کو کافر کہنے سے زبان خاموش رکھتے ہیں لڑکی بھی اپنے پیر کی طرح زبان خاموش کی ہوئی ہے۔ زید کٹر سنی بریلوی ہے وہ اشرف علی تھانوی کو کا فرسمجھتا ہے۔ زید کا ایسی لڑکی سے نکاح درست ہوا یا نہیں ؟ لڑکی کی بیعت تو ڑ وادی جائے یا نہیں؟ لڑ کی شریعت کا ہر حکم ماننے کو تیار ہے۔ فقط سائل: محمد مستقیم الدین رضوی ، قصبہ شیخو پور، ڈاکخانہ خاص ضلع بدایوں
الجواب: اشر فعلی تھانوی اپنی عبارت کفریہ مندرجہ در حفظ الایمان (جسمیں اس نے حضور علیہ السلام کے علم کو زید، عمرو، بچوں، جانوروں ، پاگلوں سے تشبیہ دی) کی وجہ سے ایسا کافر مرتد بے دین ہے کہ علمائے حرمین شریفین نے فرمایا کہ جو ایسے کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے (۲) اس نام نہاد عالم کی تھانوی کی تکفیر سے خاموشی دلیل امتناع واحتراز از تکفیر ہے اور اس کی تکفیر سے احتراز وہی کرے گا جسے اس کے کفر میں شک ہو اور یہ حکم علماء حرمین شریفین خود کفر ہے اور کفر سے راضی رہنا کفر ہے چہ جائیکہ کفر میں کسی کی اقتدا کرنا لڑکی پر تو بہ فرض ہے اور تجدید ایمان و تجدید نکاح بھی (1) حفظ الایمان ص ۱۵، مطبع دار الكتاب دیوبند (۲) حسام الحرمين على منحر الكفر والمين مع الترجمة، ص ۹۰ ، رضا اکیڈمی ممبئی (اشاعت ۱۴۳۵ھ ) ضرور ۔ اور بیعت کو فسخ سمجھے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله