بد مذہب کو اپنے گھر میں جگہ دینا، کھانا کھلانا، اور اس سے تقریر کرانا کیسا؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسائل ذیل میں کہ: (1) زید حنفیوں کی طرح نماز پڑھتا ہے اور میلاد شریف میں شرکت کرتا ہے اور صلوٰۃ وسلام با قیام سنیوں کے گاؤں میں پڑھتا ہے لیکن ملا رشید احمد گنگوہی واشر فعلی تھانوی علمائے وہابی دیوبند یہ وغیرہ کو مسلمان کہتا ہے اور جب زید سے کہا گیا کہ اثر فعلی وغیرہ علمائے وہابیہ پر عرب و عجم کے سینکڑوں علماء کا فتویٰ ہے کافر و مرتد ہونے کا تو اس کا جواب یہ دیتا ہے کہ میں کچھ نہیں جانتا مولوی احمد رضا خاں وغیرہ یہ لوگ فسادی تھے ۔ عرب کے علماء کے ساتھ دھوکہ کر کے فتویٰ منگایا ہے اور ایک کتاب دکھاتا ہے جس کا نام الشہاب الثاقب ہے اور کہتا ہے کہ اس میں لکھا ہے کہ مولوی احمد رضا نے دھوکہ سے فتویٰ منگایا ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کوسنی کہا جائے یا وہابی؟ (۲) بکرسنی پورے گاؤں کا پردھان ہے اور دینی معلومات بھی رکھتا ہے اور قرب وجوار کے مسلمان اسے اپنا پیشوا مانتے ہیں لیکن چند دن ہوئے ہیں بکر نے ایک دیو بندی ڈاکٹر کو لا کر اپنے گاؤں میں رکھ لیا ہے اور اپنے گھر کا کھانا وغیرہ کھلاتا ہے اور دیو بندی ڈاکٹر مولوی قسم کا آدمی ہے بکر اسی ڈاکٹر سے میلاد کی محفل میں تقریر کرواتا ہے۔ وقتا فوقتا امام مسجد کے نہ رہنے پرنماز بھی پڑھاتا ہے پورے گاؤں کے لوگ سنی ہیں لیکن سادہ لوح سنی مسلمان کیا جانیں کہ یہ کون ہے؟ لیکن بکر اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ دیو بندی ہے بکر سے جب کہا گیا کہ ڈاکٹر کو گاؤں سے نکالنے کا آپ کو اختیار ہے لہذا اس ڈاکٹر کو آپ بھگا دیں تو بکر کہتا ہے کہ اس ڈاکٹر کے رہنے نہ رہنے سے کچھ فرق پڑنے والا نہیں ہے۔ اب دریافت یہ کرنا ہے کہ بکر کا یہ قول کہ رہنے نہ رہنے سے کچھ فرق پڑنے والا نہیں ) اس ڈاکٹر سے تقریر کروانا عند الشرع درست ہے؟ اور اس دیو بندی ڈاکٹر کے پیچھے نماز درست ہے؟ اور اس سے سلام
الجواب:زید بے قید کھلا دیو بندی ہے اور اس کا یہ کہنا کہ ”مولوی-الح صریح جھوٹ اور کھلا فریب ہےاور دیوبندیت نوازی ہے۔ حفظ الایمان و براہین قاطعہ و تحذیر الناس کی جن عبارات پر علماے حرمینشریفین نے دیوبندیوں کو کافر کہا انہیں عبارتوں کا ترجمہ اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے کیا اور علمائے حرمینسے فتویٰ پوچھا تو انہوں نے دیوبندیوں کو ایسا کافر و مرتد فرمایا کہ جو ان کے کفر پر مطلع ہو کر ان کے کفر ورعذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے اور یہ کفریہ عبارات آج تک ان کتب میں موجود ہیں اور وہ کتابیںدیو بندیوں کے کتب خانوں سے برابر شائع ہوتی ہیں۔ اور ان پر ان کے اکابر وعمائد مناظرے کرتےرہے اور آج بھی کر رہے ہیں۔ ہاں دھو کہ تو یہ ہے کہ خلیل احمد انبیٹھوی نے المہند میں ان عقائد کفریہ سےصاف انکار کیا حالانکہ وہ اور اس کے اصحاب انہیں کفریات پر جمے رہے ۔ تفصیل کے لئے ”راد المہند“صنفہ شیر پیشہ اہل سنت مولانا حشمت علی خاں صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ دیکھئے۔ واللہ تعالیٰ اعلم(۲) بکر کا قول سخت فتیح اور اس کے افعال مذکورہ بھی ۔ ڈاکٹر کا اس جگہ رہنا سخت مضر اور اس کی تقرپرسخت زہر اور اس سے میل جول سخت قاتل ہے۔ بکر پر تو بہ فرض ہے اور ڈاکٹر کو ہٹا نالا زم۔ واللہ تعالیٰ اعلمفقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله