کسی عالم کو خلیفہ مرسلین کہنے اور اس پر اس عالم کی خاموشی کا شرعی حکم
علماء انبیاء کے وارث ہیں، مگر بد عقیدہ کو نائب نبی سمجھنا، لکھنا حرام بلکہ کفر ہے! کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس عالم کے بارے میں جسے اس کے ماننے والے خلیفہ مرسلین لکھیں۔ اور وہ انہیں کچھ نہ کہے، جبکہ اس کی عادت ہے کہ اس قسم کی باتوں پر بلکہ معمولی چوک پر بھی روک ٹوک کیا کرتا ہے۔ کیا ایسا لکھنا جائز ہے اور کیا اس شخص کا اس پر خاموش رہنا، گو یا خود کو واقعی خلیفہ مرسلین سمجھنا درست ہے؟ یا اس کی شیطانیت ہے۔ یہ لقب اقدس جبکہ خلیفہ برحق فاروق اعظم رضی اللہ نے اپنے حق میں استعمال فرمانے سے منع فرمایا کہ ابوبکر (رضی اللہ عنہ ) کے سوا اس کا مستحق کوئی نہیں۔ اور چودہ سو سالوں سے اب تک کسی کے لئے استعمال نہ ہوا تو کجاوہ مذکور عالم مجہول الحال نہ صرف خلیفہ رسول بلکہ خلیفہ مرسلین کہلائے۔ اور وہ نامعقول اس سے راضی ہو۔ کیا ایسا کہنا درست ہے؟ اور یہ کہ ایسوں کو شریعت مطہرہ کیا فرماتی ہے؟ بینوا توجروا احسان الرحمن عزیزی
الجواب: خلیفہ ایک منصب ہے جس کا اطلاق شرعاً اسی پر جائز جو شرا ئط خلافت کا جامع ہو۔ دوسرے پر اس کا اطلاق جائز نہیں۔ البتہ بچے علماء انبیاء کرام علیہم السلام کے نائب ہیں۔ انہیں نائب انبیاء کہہ سکتے ہیں کہ وہابی ، دیو بندی سرے سے مسلمان ہی نہیں عالم ہونا کجا۔ لہذا کسی وہابی کسی دیو بندی کسی بد عقیدہ کو نائب نبی سمجھنا، لکھنا حرام بلکہ کفر ۔ واللہ تعالیٰ اعلم عالم مذکور اگر وہابی ہے جیسا کہ مسئلہ سے ظاہر ہوتا ہے تو ایسے کوخلیفہ مرسلین یا اور کوئی تعظیمی لقب دینا کفر ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی