سلام مصطفیٰ جان رحمت سے روکنا، علمائے اہل سنت کی توہین اور گمراہ کن لٹریچر کی تقسیم کا مسئلہ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین مسائل ذیل میں کہ: (1) زید مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام پڑھنے سے انکار کرتا ہے اور دوسروں کو بھی پڑھنے نہیں دیتا اور یہ کہتا ہے کہ اس سلام کو خاص کر وہی لوگ پڑھتے ہیں جو اعلیٰ حضرت کے مریدین ہیں اور یہ سلام اعلیٰ حضرت کو پہنچتا ہے اور منکر سے جب سوال ہوتا ہے کہ اس سلام سے تم کو چڑھ کیوں ہے تو جواب دیتا ہے کہ اس سلام میں اعلیٰ حضرت کے نام ہیں اور اس سے مجھے چڑھ ہے اور سمجھانے پر اعتراض کرتا ہے۔ (۲) تقریر کرنے کے لئے جب علمائے کرام تشریف لاتے ہیں تو زید کہتا ہے کہ جتنے بھی علمائے کرام آتے ہیں اور اپنے آپ جو سنی کہتے ہیں سب مکار ہیں اور اپنا مطلب نکال کر چلے جاتے ہیں اور زید محفل پاک میں آنے سے دوسروں کو روکتا ہے منع کرتا ہے۔ (۳) زید کے گھر سے مودودی علماء کی تحریر کردہ پانچ کتابیں حاصل ہوئیں اور زید ان کتابوں کو دوسروں کو پڑھنے کو دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس میں سے جو اچھی باتیں ہوں انہیں لے لو اور ان کتابوں کو زید ادھر ادھر بانٹتا ہے۔ (۴) زید کی حرکات بھی کچھ اس طریقے کی ہیں کہ فرض پر زیادہ زور دیتا ہے اور سنت کے متعلق یہ کہتا ہے کہ سنت کوئی ضروری چیز نہیں اور نماز میں قیام کی حالت میں پاؤں پھیلا لیتا ہے اور آستین چڑھی رہتی
الجواب: (1) زید کی بد عقیدگی آشکار ہے اور اس کا مودودی ہونا ظاہر وباہر ہے یہی وجہ ہے کہ اسے اعلیٰ حضرت رضی اللہ عنہ سے چڑھ ہے اور سلام و میلاد سے منع کرتا اور سنی علماء کو بُرا کہتا ہے۔ اور یہ اس کی جہالت ہے کہ کہتا ہے کہ سنت کوئی ضروری چیز نہیں اور اس طرح سنت چھوڑنے کی ترغیب دیتا ہے حالانکہ سنت کا ترک شرعاً سخت برا اور عادتاً ہو تو گناہ ہے اور قیام کی حالت میں دونوں پیروں کے درمیان چار انگل کا فاصلہ ہونا چاہئے اور نماز میں آستین چڑھانا مکروہ تحریمی و گناہ ہے اور جو زید کے اقوال سے راضی ہے وہ اسی کی طرح ہے ان لوگوں سے احتر از فرض ہے اور اس کی باتوں پر کان دھر ناحرام ہے۔واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی