بدمذہبوں کی شرکت والی دعوتوں میں شرکت اور بدمذہبوں سے تعلقات کا حکم
(1) زیدسنی صحیح العقیدہ اپنے دیگر متعلقین کی دعوتوں میں وہابیوں، دیوبندیوں کی شرکت کے باوجود جاتا ہے لیکن اپنے حقیقی بھائی عمر و سنی صحیح العقیدہ) کی دعوت میں اسی بناء پر شرکت نہیں کرتا۔ کیا شریعت مطہرہ نے اس سلسلہ میں کوئی تصریح کی ہے؟ یا دونوں جگہوں کا حکم ایک ہی ہے؟ (۲) زید جب اپنے بھائی عمرو کی دعوت میں شریک نہیں ہوتا تو کیا اس بناء پر دوسرے متعلقین کے یہاں اس کی شرکت کرنا جائز نہیں؟ (۳) زید صرف دعوت کا بائیکاٹ کرتا ہے جبکہ دیگر امور میں وہ عمرو سے تعلق رکھتا ہے شرعا صرف دعوت کا بائیکاٹ لازم ہے یا دیگر معاملات کا حکم بھی یہی ہے؟ (۴) عمرو ایک ڈاکٹر ہے اور اسی پیشے کی وجہ سے اس کے یہاں مختلف العقیدہ لوگ آتے جاتے رہتے ہیں اور بنارس کا ماحول بھی اس قدر مخلوط ہے کہ کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کا تعلق بدمذہبوں سے نہ ہوتی کہ جوزید کا تعلق ہے کاروباری کی وجہ سے خانگی طور پر وہابیہ دیابنہ سے ہے ایسے ماحول میں عمرو نے کچھ وہابیہ دیابنہ کو اپنے یہاں مدعو کیا اور ان کے کھانے پینے کا انتظام اہل سنت سے ایک دم الگ کیا۔ اہل سنت کے لئے ایسی دعوت میں شرکت جائز ہے یا نہیں؟ (۵) بنارس کے مذکورہ بالا ما حول میں اگر تشدد سے کام کیا جائے تو بالیقیں اہل سنت کہلانے والوں میں بیشتر لوگ غیروں سے جاملیں گے۔ ایسے ماحول میں تشد د برتا جائے یا نہیں؟ (1) بدمذہبوں کے ساتھ صرف کھانے پینے کے معاملات ناجائز ہیں یا کاروبار اور اس طرح کے دیگر معاملات بھی ناجائز وممنوع ہیں؟ (۷) زید اور عمر و دونوں ہی امامت کرتے ہیں۔ ایسے لوگ امامت کے اہل ہیں یا نہیں اور ان کے پیچھے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا نہیں؟ المستفتی : ڈاکٹرمحی الدین مدن پوره، بنارس، یوپی
الجواب: (1) ہر اس محفل میں جانا شرعا نا جائز وحرام ہے جس میں بد مذہب مدعو ہوں ۔ ظاہراً اس حکم سے کوئی محفل مستثنی نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) ضرور نا جائز ہے جبکہ کوئی وجہ شرعی نہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) نہیں بلکہ میل جول بھی منع ہے جبکہ اس کی اصلاح کی امید نہ ہو ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) بدمذہبوں سے اختلاط میں بھی یہی اندیشہ ہے۔ اسی کے پیش نظر ان سے اختلاط کی ممانعت ہے۔ لوگوں کو ہر نرم طریقے سے سمجھائیں پھر بھی کوئی نہ مانے، اس سے علیحدگی ہی چاہئے تا کہ مجبور ہو کر راہ راست پر آئے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۶) معاملات بھی حرام ہے۔ بشرط استطاعت و عدم حرج احتراز لازم اور ضرورت شرعیہ اور مواقع حرج میں شرعارخصت ہے۔ واللہ تعالی اعلم (۷) حکم پہلے گزرا۔ واللہ تعالیٰ اعلم