کافر کے افتتاحی پروگرام میں جانا، بے مصلحت شرعیہ کا فر کی دعوت قبول کرنے کا حکم
فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله کافر کے افتتاحی پروگرام میں جانا، بے مصلحت شرعیہ کا فر کی دعوت قبول کرنے کا حکم ! کیا فرماتے ہیں علمائے دین و شرع متین اس مسئلہ میں کہ : ایک مشرک نے مسلمانوں کے محلے ہی میں اپنا کاروبار شروع کیا افتتاحی پروگرام اس طرح ترتیب دیا کہ اول دن اس نے پوجا کروا یا دوسرے دن صبح کو قرآن خوانی اور شام کو محفل میلاد پاک منعقد کروائی محفل میلاد ہی میں ایک سنی عالم نے تقریر کی جبکہ وہاں کا ماحول کچھ ٹھیک تھا لیکن اب عوام کے اندر یہ چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ ایک کافر کے جشن افتتاح کے پروگرام میں ایک سنی عالم نے شرکت کی جب کہ یہ معلوم تھا کہ جس جگہ مولانا صاحب تقریر کرنے جارہے ہیں وہ کوئی اپنا دینی بھائی کا افتتاحی پروگرام نہیں ہے بلکہ یہ ایک کافر نے کروایا ہے۔ اب ان عالم صاحب کے بارے میں علمائے دین کیا فرماتے
الجواب: نے مصلحت شرعیہ اس کافر کی دعوت قبول کرنا اور اس کے یہاں جانا جائز نہ تھا تو بہ لازم ہے اور اگر فی الواقع اس میں کسی دینی نفع کی توقع تھی یا عدم قبول کی صورت میں فتنہ کا صحیح اندیشہ مت تو الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم ۱۸ / جمادی الآخره ۱۴۰۱ھ فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی