نماز کے بعد دعائے ثانی میں فاتحہ پڑھنے کا جواز اور مخالفین کے اعتراضات کا جواب
نماز کے بعد دعائے ثانی میں فاتحہ پڑھنا کیسا ہے؟ دعائے ثانی میں فاتحہ کیوں پڑھتے ہیں؟ اس کا جواب دیجئے۔ کون سی کتاب ہے اور کس جگہ ہے مکمل جواب دیجئے۔ کوئی حنفیہ مسلک کی کتاب سے جواب دیجئے یہ امیر جماعت کا سوال ہے۔ ہمارے یہاں کے امیر صاحب کا کہنا ہے کہ جھوٹے بریلی والے مولوی کیا بولیں گے صرف بریلوی، مولوی حلوا مالیدے کے لالچی مولوی ہیں۔ تو میں نے بھی جوابا امیر جماعت کے حضرت ایمان فروش ضمیر بیچے ہوئے ، زرخرید غلام بے ایمان ، چیل کو اکھانے والے، بدمعاش وغیرہ کہہ کر خوب دل کی بھڑاس نکالی۔
الجواب: دعائے ثانی میں فاتحہ اس لئے پڑھتے ہیں کہ فرض کے بعد مختصر دعا مانگنے کا حکم ہے تو وہاں فاتحہ کا محل نہیں ہے۔ اگر چہ فاتحہ پڑھنا فرضوں کے بعد بھی جائز ہے مگر حکم استحبابی یہی ہے کہ فرضوں کے بعد مختصر دعا کرے۔ لہذا مستحب پر عمل کرتے ہوئے دعائے ثانی میں فاتحہ پڑھی جاتی ہے اور دعا کی جاتی ہے، مولائے کریم ہمارے فرض و نوافل کو قبول فرمائے اور اس کا ثواب ہمارے زندوں اور مردوں کو پہنچائے تو فاتحہ خود دعا ہے اور دعا مطلقا مامور ہے۔ قرآن کریم نے اس کا حکم بے تخصیص و تقیید دیا ہے تو ہم سے کیا پوچھتا ہے کہ منع کرنے والا فاتحہ سے منع دکھائے اور دعائے ثانی کے بعد فاتحہ کی ممانعت پر دلیل لائے اور ہم کہے دیتے ہیں کہ ہر گز نہیں لاسکتا تو ظاہر ہے کہ اپنے دل سے شریعت گڑھتا ہے۔ پھر اصل بات تو یہ ہے کہ دیوبندی اللہ عز وجل کو کا ذب بالفعل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علم کو پاگلوں جانوروں کے علم جیسا شیطان سے کم علم والا آپ کے بعد کسی نبی جدید کا آناخل خاتمیت محمدی نہ ہونا بتا کر کو بکوبھٹکتے رہے اور آج تک اپنا کفر نہ اٹھا سکے ، اسی لئے علمائے حرمین وغیر ہمانے ان کے بارے میں فرمایا: (1) (دیکھوفتو می گنگوہی ، حفظ الایمان، براہین قاطعہ تحذیر الناس) تحذیر الناس ص۴۰ ،فیصلپبلیکیشنز من شک فی کفرہ و عذابه فقد کفر (۱) جوان کے عقائد کفریہ جان کر ان کے کفر میں شک کرے وہ خود کا فر ہے۔ تو انہیں حق کیا ہے کہ مسلمانوں سے پوچھیں کہ یوں کیوں کرتے ہیں اور یوں کیوں نہیں۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله