دیوبندی مبلغ پالن حقانی کی حقیقت اور نمازیوں کی نماز میں خلل ڈالنے کا حکم
داڑھی منڈا رکھی ہے تم مسلمان نہیں ہو جاہل مرکب ہو میں جاہلوں سے بات نہیں کرتا ان سب باتوں کا جواب قرآن وحدیث کے حوالے احادیث کے نام اور صفحہ سے اور مہر اپنے یہاں کی فتوی پر لگا کر دینے کی زحمت فرمائیے گا جواب کے لئے لفافہ ۳۰ پیسے والا حاضر خدمت کرتا ہوں۔ المستفتی عبدالرشید، محلہ نبی کریم زینت منزل با پور غازی آباد
الجواب: شخص مذکور کہنہ دیوبندی ہے یہی وجہ ہے کہ وہ دیو بندیت کے مبلغ پالن حقانی کو عالم اور سنی جانتا ہے اور پالن حقانی ہے کہ ہر جلسہ میں یہ کہتا ہے کہ ”بھائیوں میں جاہل ہوں میری ماں جاہل تھی میں جیل میں پیدا ہوا اور بار بار یہ کہہ چکا کہ میں لکھنا پڑھنا نہیں جانتا ابھی چند برسوں کی بات ہے کہ اسی پالن حقانی نے کلکتہ میں ایک جلسہ میں یہ کہہ دیا کہ بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ مجھے بھائی کہو، جب بخاری شریف میں دیکھ کر مطالبہ کیا گیا کہ دیکھائے کہاں ہے وہ حدیث تو جواب ملتا ہے کہ یہ تو عربی میں ہے میں تو اردو کی پڑھتا ہوں ۔ ایسے جاہل بزبان خود کو یہ عالم کہتا ہے ۔ مدعی ست گواہ چست مگر بے چارے کو خبر نہیں کہ علماے دیو بند و سنبھل اس مبلغ دیوبندیت پر کفر کا فتوی لگا چکے ہیں، ذرا اس فتوے کو دیکھ کر آئینہ میں خود اپنا منہ دیکھ لے کہ وہ اسے مسلمان کہکر خود کیا بن گیا ؟ فاتحہ ونیاز و سلام و قیام کو منع کرنا ان لوگوں کی پرانی عادت ہے شخص مذکور نے صحیح کہا کہ نمازیوں کی نماز کے دوران وعظ وغیرہ منع ہے۔ اس پر اس کا یہ احمقانہ اعتراض کہ تم بتانے والے کون ہو تے ہو؟ تم کو کوئی حق حاصل نہیں ہے نہایت بیجا اور بڑی دھاندلی ہے وہ خود ہی بتائے کہ جب اسے شرع مطہر کی اتنی بات معلوم نہیں حالانکہ سلفا وخلفا اس بات پر اجماع ہے کہ ذکر وغیرہ سے جب نمازیوں پر تشویش و خلل ہو تو اس وقت اتنی آواز سے ذکر وغیرہ منع ہے کمافی رد المحتار: اجمع العلماء سلف و خلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها،، الا ان يشوش جهرهم على نائم او مصل او قارئ ) تو اسے تفسیر وغیرہ بتانے کا حق کیسے حاصل ہے پھر جب کہ سلام بآواز بلند وقت مقررہ میں سنی پڑھتے ہیں تو انھیں کے ہم خیال لوگ اس وقت میں قصد نماز میں مشغول ہو کر بعینہ یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ صاحبو! نماز کے وقت میں سلام پڑھنا منع ہے ، حالانکہ وہ وقت گاؤں والوں نے مقرر کر لیا ہوتا ہے تو یہ اعتراض صلوۃ وسلام بارگاہ خیر الانام صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو روکنے کے لئے تو درست ہے مگر آنجناب کی پر پر یہ اعتراض نہیں ہوسکتا۔ معلوم ہوا کہ شریعت آپ کی خانگی ہے جو اوروں کے لئے ناجائز ہے آپ کیلئے جائز لا حول ولاقوۃ الا باللہ العظیم پھر اس کے بجا اعتراض پر اسے یہ کہنا کہ تم مسلمان نہیں ہو حدیث کے بموجب اپنے منہ آپ کا فر بنتا ہے، حدیث میں ہے جو اپنے بھائی کو کافر کہے تو ان دونوں میں سے ایک کی طرف لوٹے گا اگر وہ جسے کافر کہا، کا فر تھا جب تو خیر ورنہ کہنے والے پر کفر لوٹ جائے گا۔ قال رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم ايما امرأ قال لاخيه كافر فقد باء بها احدهما ان كان كما قال والارجعت عليه اس نے یہ نئی بات نہیں کہی بلکہ سارا طائفہ وہابیہ دیو بند یہ حضرات اہلسنت کو کافر و مشرک ہی سمجھتا ہے اور کہتا ہے، آخر امام الطائفہ میاں اسمعیل دہلوی نے تقویۃ الایمان میں وہ حدیث ذکر کر کے کہ آخر زمانے میں ایسی ہوا چلے گی جو ہر اس شخص کو اٹھالے گی جس کے دل میں رائی برابر ایمان ہو گا صاف لکھ دیا سو پیغمبر خدا کے فرمانے کے موافق ہوا اوروں کو کافر بنانے کی ہوس ایسی چڑھی کہ یہاں تک لکھ بیٹے نگر آنجناب اور طائفہ کون سی دنیا میں بستے ہیں کہ سارا جہاں مشرک اور خود ہیں مسلمان اس شخص کو امامت سے معزول کیا جائے اور وعظ اس کا ہرگز نہ بنیں بلکہ مسجد سے اسے ضرور رو کیں درمختار میں ہے: ويمنع منه كل مؤ ذو لو بلسانه واللہ تعالی اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قاری از هری غفرله ۹ ذی الحجہ ۱۳۸۹ھ