غیر مقلد کی صحبت سے احتراز اور ۷۸۶ کی توہین کرنے والے کا حکم
بگرامی خدمت حضرت امین شریعت صاحب مدظلہ العالی دامت برکاتہم ! السلام علیکم ورحمتہ اللہ التماس خدمت ایں کہ ہمارے یہاں ایک شخص ہے جو اپنے کو اہل حدیث کہتا ہے آج سے تقریباً چند ماہ قبل کا واقعہ ہے کہ میں ایک تعویذ لکھ رہا تھا جس میں بسم اللہ شریف کے عدد ۷۸۶ لکھا اتفاق کی بات ہے کہ وہ اس وقت میرے سامنے آیا اور پوچھا مولوی صاحب کیا لکھ رہے ہیں میں نے کہا تعویذ لکھ رہا ہوں کیوں کیا بات ہے اس کمبخت نے کہا یہ جو آپ نے ۷۸۶ لکھا ہے یہ کیا ہوتا ہے میں تو اس کو کچھ نہیں مانتا اور میں اس کو پیر کے بیچ میں رکھ کر کھڑا ہو جاؤں؟ میں نے کہا میں پھر تجھ پر پیر رکھ کر کھڑا ہو جاوں گا الغرض پھر کچھ باتیں بحث کی ہو کر ختم ہو گئیں اس سے قبل اس نے کئی غیر مقلد نظریہ کے مطابق کتابیں اور پر چہ لکھ کر لوگوں کو اپنے عقیدے کی طرف لے جانے کی کوشش کی ، میں نے اس کے پرچے کو پھاڑ ڈالا ، وہ اکثر یہاں کے مسلمانوں سے اپنے عقائد کی طرف لے جانے کی باتیں کرتا پھرتا ہے اور دوسری حقیقت یہ ہے کہ لوگوں کی غیبتیں اور چغلی کرتا پھرتا ہے، ایک دو ایسے سیدھے سادے مسلمان ہیں جنہیں وہ فیسلٹی دے رہا ہے اس کے ساتھ کھانا پینا کرتا ہے الغرض لکھنا یہ ہے کہ ایسے شخص کو ابلیس کہا جائے تو کیا بُرا ہے اور ایسے شخص کے ساتھ کھانا پینا، سلام کلام ، بات چیت کرنا کیسا ہے؟ استدعا ہے کہ مفصل جواب سے اختر کو کر یہ کاموقع دیں۔ المستفتی : دعا گو جمیل احمد امام مسجد اندی سنی روڈ سمبر پور پالی
و شخص جب کہ غیر مقلد ہے تو اس کی صحبت سے سخت پر ہیز نہایت ضروری ولازم ہے کہ اس کی صحبت سے دین وایمان کے خراب ہونے کا سخت خطرہ ہے، ان کے لئے حدیث میں ہے: لاتجالسوهم الخ (1) ان کے ساتھ نہ بیٹھو نہ کھاؤ پیو دوسری حدیث میں فرمایا: فاياكم واياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم (٢) ان سے دور رہو اور انہیں اپنے سے دور رکھو کہیں تم کو گمراہ نہ کر دیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں۔ جو لوگ اس کے ساتھ میل جول رکھتے ہیں ان پر تو بہ اور اس سے اجتناب لا زم ہے۔ والمولیٰ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (۱) مشکوة شریف ص ا ، باب المساجد ومواضع الصلوة، فصل ثالث، مجلس بركات (۲) مسلم شریف باب النهي عن الرواية عن الضعفاء، ج ۱، ص ۱۰ مطبع مجلس بركات