رافضی سے سود پر قرض لینے کا حکم اور ان کے باطل عقائد
رافضی سے سود پر قرض لینا کیسا؟ رافضیوں کا ایک عقیدہ یہ بھی ہے کہ قرآن ناقص ہے! علمائے دین ومفتیان کرام اس مسئلہ میں کیا فرماتے ہیں کہ : زید نے ایک رافضی سے تجارت کے لئے روپیہ سود پہ لیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ شریعت مطہرہ کا جو حکم ہو اس سے آگاہ فرمائیں کیا جس طرح سے ایک مسلمان سے سود لینا دینا حرام ہے اسی طرح سے وہابی ورافضی سے بھی حرام ہے؟ حرام ہونے کی صورت میں زید کے اوپر کفارہ کیا ہے؟ شریعت پاک کا جو حکم ہو اس سے آگاہ فرمائیں عین مہر بانی ہوگی میری جانب سے علمائے دین ومفتیان کرام کی خدمت میں سلام علیک عرض ہے۔ المستفتی : فقط طالب دعا گلشن خاں ۵۲ / باغ محمد چال ، راجہ روڈ ممبئی ۸
الجواب: روافض زمانہ کہ سیدہ طاہرہ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ زوجتہ النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر تہمت ( معاذ اللہ ) دھرتے اور قرآن عظیم کو ناقص جانتے اور اس کی تنقیص کی تہمت حضرت عثمان غنی کے سر رکھتے اور وحی میں جبرئیل امین علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کے اوپر خطا کا الزام اٹھاتے ہیں کہ وحی تو حضرت علی کے لئے تھی جبرئیل نے غلطی سے حضور پر اتاردی و العياذ بالله العلی العظیم۔ قرآن عظیم کے منکر ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے حضرت عائشہ کی براءت میں : اِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَتِ الْغَفِلَتِ الْمُؤْمِنَتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (۱) یعنی بیشک وہ جو عیب لگاتے ہیں انجان پارسا ایمان والیوں کو ان پر لعنت ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ اس آیت کریمہ سے حضرت عائشہ کی براءت اور ان کا محصنہ غافله عن السوء ہونا ظاہر ہے اور یہ آیت منجملہ ان سات آیتوں کے ہے جو اللہ نے پیارے رسول علیہ السلام کی پیاری بیوی کی براءت میں اتاریں اور اسی آیت سے ان کا انجام بھی معلوم ہوا جو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو تہمت لگاتے ہیں والعیاذ بالله العلی العظیم ۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِكَرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (٢) بیشک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بیشک ہم خود اس کے نگہبان ہیں ۔ رافضی نے قرآن کو ناقص کہہ کر خدا کو جھٹلایا۔ اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَيَفْعَلُونَ مَا يُؤْمَرُونَ (۳) اور (یہ فرشتے ) وہی کرتے ہیں جو انھیں حکم ہو۔ حضرت جبریل امین کو تبلیغ وحی میں خطا کا الزام دے کر رافضی نے اس آیت کریمہ کو جھٹلایا کہ اس کا صریح مفاد تو یہ ہے کہ ان سے امرالہی کی تعمیل میں خطا نہیں ہوتی اور یہ ان پر خطا کا مجوز ہے اور رسل ملائکہ تو رسل ملائکہ انسانوں میں انبیا تبلیغ میں سہو و نسیان سے تمام اہل سنت کے نزدیک معصوم ہیں کما صرح بہ فی الشفاء وغیرہ یہی نہیں بلکہ رافضی ملعون نے خدائے عزوجل کی حکمت کاملہ پر بھی دھبہ لگانے کی سعی نامحمود کی کہ اس نے ایسے کو تبلیغ وحی پر مامور کیا جس سے اس میں خطا ہوئی پھر اللہ تعالیٰ نے اس خطا کو مقرر کیا اس طرح انہوں نے معاذ اللہ خود خدائے حکیم کو غیر حکیم بلکہ خاطی ٹھہرایا۔ والعیاذ باللہ رب العالمین۔ ایسا کیوں نہ بکیں کہ ان کے نزدیک خدا پر تبرا جائز ہے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ پہلے ایک حکم فرماتا ہے اور جب دوسرے میں مصلحت دیکھتا ہے تو دوسرے کا حکم فرماتا ہے ، کما صرحوا به في العقائد حكاية عن الرفضة ، ۔ یہ معاذ اللہ، اللہ کو جاہل ٹھہرانا ہے۔ بالجملہ رافضی مکذب قرآن وحدیث، منکر ضرویات دین ہے اور ایسا شخص مرتد ہے لا جرم ہمارے علمائے اہل سنت نے ان پر کفر کا حکم فرما یا کما فی العقود الدريةللعلامة ابن عابدين الشامى وكما صرح به امام اهل السنة في فتاواه ورسالته المباركة ردالرفضة فلتراجع اور مرتد سے معاملات نکاح وبیع و شرا، سب حرام ہیں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: من بدل دينه فاقتلوه (۱) مگر یہ حکم سلطنت اسلامیہ کا ہے کہ سلطان اسلام کی طرف اقامت حدود مفوض ہے کماصرحوا بہ اور معاملات تو معاملات ان سے میل جول ، ساتھ اٹھنا بیٹھنا سب بنص قطعی قرآن حرام ہے۔ قال اللہ تعالیٰ : وَإِمَّا يُنْسِيَنَّكَ الشَّيْطَنُ فَلَا تَقْعُدُ بَعْدَ الذِّكْرَى مَعَ الْقَوْمِ الظَّلِمِينَ (٢) اور اگر تجھے شیطان بھلا دے تو یاد آنے پر ظالموں کے ساتھ نہ بیٹھو۔ تفسیر احمدی میں فرمایا: الظالمين يعم المبتدع والفاسق والكافر والقعود مع كلهم ممتنع (۳) اور حضور فرماتے ہیں: فاياكم واياهم “ (۴) ان سے بچو، ان سے دور رہو اور انہیں دور رکھو۔ اور فرماتے ہیں: لاتراءى ناراهما مسلمان اور کافر کے کفر قریب نہ ہوں کہ آپ کو دونوں دکھائی دے۔ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: فلاتجالسوهم ولاتشاربوهم ولاتواكلوهم ولاتنا كحوهم ان کے پاس نہ بیٹھو ان کے ساتھ نہ کھاؤ، نہ پیو اور نہ ان سے نکاح کرو۔ یہ حدیث بحمدہ تعالیٰ خاص حرمت معاملات کا جزئیہ ہے، بالجملہ رافضی سے بے ضرورت شرعیہ معاملہ بیع وشراء خواہ ان کے علاوہ کوئی اور معاملہ ہو، نا جائز ہے اور زیادتی کی شرط پر جو قرض اس سے لیا لینے والا گنہگار ہوا اگر چہ یہ زیادتی سود نہ کہلائے گی کہ سود تو مسلمان مسلمان کے درمیان ہوتا ہے مسلمان اور حربی کافر ( مرتد بھی اسی حربی کے حکم میں ہے) کے درمیان نہیں ہوتا کہ سود کے لئے دونوں طرف مال معصوم ہونا شرط ہے۔ رد المحتار میں ہے: و من شرائط الرباء عصمة البدلين وہابیہ زمانہ کا بھی یہی حکم ہے زید پر تو بہ لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم مرتد سے کوئی معاملت جائز نہیں۔ فقیر محمد اختر رضا قادری از هری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم والجواب صحیح واللہ تعالیٰ اعلم ۔ فقیر مصطفی رضا القادری تحسین رضا غفرلہ