وہابیت وسفیت میں تفریق نہ کرنے والا صلح کلی ہے!
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان شرع متین مسئلہ ہذا میں کہ: ایک گاؤں کے عمرو، بکر و خالد نے اپنے گاؤں میں میلا دشریف کیا اور موجود مقرر کو مدعو نہیں کیا یہ کہہ کر کہ سنی اور وہابی مذہب میں فرق بتلاتے ہیں اور ہم لوگ نہیں چاہتے ہیں کہ سنیت اور وہابیت ظاہر کیا جائے اب دریافت ہے کہ شریعت پاک کا کیا حکم ہے؟ جواب باصواب سے جلد آگاہ فرمائیں عین کرم ہوگا ، فقط والسلام
الجواببِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّاب
ایسا شخص جو یہ کہتا ہے کہ ہم لوگ نہیں چاہتے کہ وہابیت وستیت ظاہر کیا جائے ، نہایت ملزم و گناہ گار ہے، بلکہ اظہر یہ ہے کہ وہ صلح کلی ہے یا چھپا وہابی ہے اس کے عقائد کی تحقیق کی جائے اور اس سے احتراز لازم ہے واقف حال کو اس سے علاقہ رکھنا حرام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله
دار الافتاءبریلی
کتبہ: حضور تاج الشریعہ مفتی محمد اختر رضا خان قادری ازہری
صدر مفتیِ ہند، دار الافتاء بریلی
مأخذ: فتاویٰ تاج الشریعہ، جلد ۲ · صفحہ ۲۰۹–۲۱۰
اسی باب کے متعلقہ فتاویٰ
رافضی سے سود پر قرض لینے کا حکم اور ان کے باطل عقائد
باب: کتاب العقائد
غیر مقلد کی صحبت سے احتراز اور ۷۸۶ کی توہین کرنے والے کا حکم
باب: کتاب العقائد
ہولی کے تہوار میں شرکت اور ہندوؤں سے مشابہت کا حکم
باب: کتاب العقائد
تبلیغی، وہابی اور دیوبندی جماعت کے عقائد اور سنی مسجد کا متولی بننے کا حکم
باب: کتاب العقائد
بد مذہب رشتہ داروں سے میل جول رکھنے والی سنیہ عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں حکم
باب: کتاب العقائد