بد مذہب رشتہ داروں سے میل جول رکھنے والی سنیہ عورت اور اس کے شوہر کے بارے میں حکم
زید کی بیوی برابر اپنے کنبہ ورشتہ داروں والدہ، ماموں، خالو، بہن وغیرہ سے ملتی جلتی ہے اور وہ لوگ زید کے گھر آتے جاتے ہیں زید یہ اچھی طرح جانتا ہے کہ میرے سسرال والے اہل حدیث عقیدے کے لوگ ہیں اور زید کی بہن، بہنوئی ، بھائی ، ماموں وغیرہ تمام اہل سنت حنفی عقیدے کے لوگ ہیں اور جناب اعلیٰ حضرت کے پیرو ہیں اگر زید کی بیوی اپنے والد والدہ بھائی بہن ماموں وغیرہ سے آنا جانا کھانا پینا میل جول رکھے تو زید کے تمام رشتے داروں کو زید کی بیوی سے تعلق رکھنا چاہئے یا نھیں ؟ اور اگر زید کی بیوی اپنے تمام رشتہ داروں کو چھوڑے تو زید کے تمام رشتہ دار زید کی بیوی سے مل سکتے ہیں یا نہیں زید تنہا اپنے سسرال والوں کو چھوڑ دے اور اس کی بیوی اپنے سسرال والوں سے تعلق رکھے تو زید کے رشتہ دار زید اور اس کی بیوی سے تعلق رکھ سکتے ہیں یا نہیں اگر زید کا کوئی رشتہ دار جو سنی حنفی اعلیٰ حضرت کا ماننے والا ہو تو وہ زید اور اس کی بیوی سے ملتا ہو تو اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم۔ المستفتی : سید شہزادے میاں گھیر جعفر خاں، پرانا شہر بریلی شریف
الجواب: زید کی بیوی اگر سنیہ ہو چکی ہے اور اپنے بد مذہب رشتہ داروں سے ملتی ہے اور شوہر کے گھر بلاتی رہتی ہے تو سخت گنہ گار ہے اور زید بھی نہایت گنہ گار ہے جبکہ وہ اس کے اس فعل سے راضی ہو تو دونوں پر تو بہ لازم ہے اور زید پر فرض ہے کہ وہ اپنی بیوی کو ہر ممکن طور سے رو کے بدمذہب رشتہ داروں سے علیحدہ رکھے ورنہ مسلمان اسے چھوڑ دیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله