وہابی سے سنی لڑکی کے نکاح کا حکم اور کفاءت کا مسئلہ
کے ساتھ میری لڑکی کا نکاح ہوا تھا وہ وہابی ہے میں اور میری لڑکی سنیہ ہے اور وہ شخص جس سے نکاح ہوا تھا وہابی ہے۔ تو کیا یہ نکاح ہوا یا نہیں؟ اور کیا طلاق لینا ضروری ہے یا نہیں؟ اور میری لڑکی جو اس کے ساتھ دس ماہ گزاری ہے تو کیا اس کا کفارہ ادا کرنا ہوگا یا نہیں؟ اور اب جو دن اس شخص کے ساتھ گزرے گا کیا اس کا بھی کوئی کفارہ ادا کرنا ہوگا ؟
الجواب: عائشہ بیگم، بیگم نواب محمد حبیب خاں محله بازارصندل خاں قلعہ بریلی شریف فی الواقع اگر وہ شخص وہابیوں کے عقائد کفریہ رکھتا یا ان کے کفریات پر مطلع ہو کر انھیں مسلمان جانتا ہے تو وہ مثل وہابیہ زمانہ مرتد ہے اور مرتد کا نکاح نہ سنیہ سے نہ کافرہ اصلیہ سے نہ اپنے مثل مرتدہ سے غرض کہ عالم میں کسی سے درست نہیں ۔ درمختار میں ہے : ،، لا يصلح ان ينكح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا “ (۱) ہندیہ میں مبسوط سے ہے : لا يجوز للمرتد ان يتزوج مرتدة ولا مسلمة ولا كافرة اصلية وكذلك لا يجوز نكاح المرتدة مع احد “(۲) اور اگر وہابیہ کے عقائد کفریہ نہیں رکھتا نہ وہابیہ کو مسلمان جانتا ہے مگر نیاز و فاتحہ ومیلاد و قیام وصلاة وسلام وغیرہ معمولات اہل سنت کو بدعت سیئہ سمجھتا ہے تو بد مذہب ہے اور بد مذہب بنت سنیہ کا کفو نہیں اور مذہب معتمد میں غیر کفو سے نکاح بے اجازت صریحہ ولی اصلاً منعقد نہیں ہوتا، لہذا جبکہ وقت نکاح اس کا بد مذہب ہو نا معلوم نہ تھا تو اصلاً منعقد نہ ہوا کہ ولی کی اجازت اس وقت معتبر جبکہ غیر کفو کو غیر کفو جانتے ہوئے اجازت دے۔ درمختار میں ہے: وو ويفتي في غير الكفؤ بعدم جوازه اصلا و هوا المختار للفتوى لفساد الزمان فلا (1) الدر المختار، کتاب النکاح، باب نکاح الکافر، ج ۴، ص ۳۷۶، دار الكتب العلمية، بيروت (۲) الفتاوى الهندية ، باب القسم السابع المحرمات بالشرك، ج ۱، ص ۳۴۷، دار الفکر، بیروت تحل مطلقة ثلثا نكحت غير كفؤ بلارضاء ولى بعد معرفته اياه، فليحفظ ) رد المحتار میں ہے: فلا يلزم التصريح بعدم الرضابل السكوت منه لا يكون رضا كما ذكرنا فلابدح ،، لصحة العقد من رضاه صريحا الخ (۲) وو نیز ردالمحتار میں ہے: وقال شمس الائمة: وهذا اقرب الى الاحتياط كذا فى تصحيح العلامة قاسم (۳) لہذا صورت مسئولہ میں طلاق لینے کی ضرورت نہیں، ہاں پریشانی سے بچنے کے لئے کچہری سے آزادی حاصل کر لے اگر چہ وہ آزادی نکاح صحیح میں کچھ اثر انداز نہیں لیکن صورت مذکورہ میں تو سرے سے نکاح ہی نہ ہوا اور بعد تحقیق وہابیت اس کے ساتھ رہنا حرام اور گزشتہ میں بوجہ عدم علم الزام نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله (1) الدر المختار كتاب النكاح، ج ۴، ص ۱۵۶ ۱۵۷ ، دار الكتب العلميه بيروت (۲) رد المحتار باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۷ ، دار الكتب العلميه بيروت (۳) رد المحتار، باب الولی، ج ۴، ص ۱۵۷ ، دار الکتب العلميه، بيروت