دیوبندیوں کا سنی مساجد میں داخلہ اور ان کے پیچھے نماز کا حکم
بخدمت جناب مفتی اعظم ہند بریلی شریف یو۔ پی۔ السلام علیکم ! خدمت میں عرض ہے مہربانی سے جواب عنایت فرمائیں کہ بریلی شریف میں دیوبندیوں کی کتنی مساجد ہیں اور وہ دیو بندی صرف اپنی ہی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں یا وہ اہل سنت کی مساجد میں نمازیں ادا کرتے ہیں کیوں کہ میرا مقدمہ اس بنا پر کورٹ میں چل رہا ہے وہ مجھ کو کورٹ میں دیکھانا ہے اگر ہو سکے تو ہندی میں لکھا ہوا ہو، روانہ فرمائیں، میری تاریخ 3.1.84 ہے کیوں کہ مجسٹریٹ صاحب ہندی جانتے ہیں اور دو کاپی بھیج دیں تا کہ ایک میرے پاس رہے اور ایک حاکم کو پیش کر دی جائے، عین عنایت ہوگی۔ دوسرا یہ کہ اہل سنت و جماعت کی مسجد میں دیو بندی پیش امام بن کر نماز ادا کر سکتا ہے یا نہیں؟ جو میں نے آپ کی خدمت میں لکھا ہے، لکھ کر تحریر فرما ئیں خط ملتے ہی جواب دیں۔
دیوبندیوں کا سنیوں کی مساجد میں آنا اور ان کے ساتھ صف میں کھڑا ہونا ہماری شرع مطہر میں جائز نہیں ، دیو بندیوں کے پیچھے نماز باطل محض ہے! ۷ /ذوالحجہ ۱۳۹۹ھ الجواب: دیو بندی کی مساجد بریلی میں بہت کم ہیں اور دیو بندی اپنی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں، مجسٹریٹ نے یہ آپ لوگوں سے کیوں پوچھا ہے؟ اس امر کی دریافت تو کچہری کو گور ملٹی ذرائع سے خود چاہئے تھی ، پھر دیو بندیوں کی مساجد کی زیادتی یا کمی پر بنائے کا ر رکھنا ہی غلط ہے، اصل بات تو یہ ہے کہ دیو بندی اپنے عقائد کفریہ کے سبب ایسے کافر و بے دین ہیں کہ علمائے حرمین شریفین نے فرمایا کہ جوان کے کفر پر مطلع ہوکر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے، دیکھو حسام الحرمین (۱) تو انھیں سنیوں کی مساجد میں آنا اور ان کے ساتھ صف میں کھڑا ہونا ہمارے شرع مطہر میں جائز نہیں اور ان کی امامت صحیح نہیں تو ان کے پیچھے نماز باطل محض ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله