شیعہ سے نکاح کے لئے وقتی مصلحت کے طور پر کلماتِ تشیع ادا کرنے کا حکم
تلقین کرده چند کلمات ادا کرنے پڑے جن کے کہنے کے بعد شیعہ علماء زید کے تشیع پر متفق اور مطمئن ہوئے اور نکاح ہو گیا۔ (یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ لڑکی اور لڑکی کے گھر والے کبھی بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ لڑکا ان کے مسلک کو مانے تو شادی کی جائے، یہ پیچیدگی عین وقت پر آن پڑی اور زید کو سوچنے سمجھنے کا موقع نہ یل سکا ) زید سے تبرا اور خلفائے کرام کی شان میں گستاخانہ الفاظ نہیں کہلائے گئے اور نہ ہی کوئی ایسی بات جو صراحۂ دین سے یا مسلک اہل سنت سے خارج کر دیتی ہو۔ زید نے کہی پھر رخصتی کے بعد رونمائی سے پہلے اہل سنت کے مسلک کے مطابق دوبارہ نکاح ہوا اور اس طرح وہ لڑکی زید کے نکاح میں خوشی خوشی ہے۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کے وقتی مصلحت کی بنا پر چند کلمات عقیدہ اہل تشیع کے ادا کر دینے سے کیا وہ دائرہ اہل سنت سے خارج سمجھا جائے گا جبکہ وہ کسی بھی لمحہ عقید تا مسلک اہل تشیع کا قائل نہیں اور دوسری بات یہ کہ نکاح مذکورہ بالا تشریح کی روشنی میں جائز ہوا کہ نہیں۔ یہاں یہ امر بھی واجب الاظہار ہے کہ لڑکی اور اس کے گھر والوں کے عقائد ان شیعہ حضرات کے نہیں ہیں جو علی کی وجہ سے علمائے حق کی ایک جماعت کے نزدیک خارج از اسلام سمجھے جاتے ہیں۔ بالخصوص لڑکی کے عقائد بہت معتدل اور میانہ روی کے قریب ہیں۔ وہ زید سے اہل سنت کے عقائد کے بارے میں جاننا چاہتی ہے اور اس سے بڑی حد تک متاثر ہوتی ہے۔ براہ کرم جواب سے ممنون فرما ئیں، اور عند اللہ ماجور ہوں ۔ والسلام مستفتی: فیضان اللہ شوکت علی روڈ ،الہ آباد
الجواب: اسلام سے خارج ہو جانا کچھ اس پر موقوف نہیں کہ آدمی کفریہ کلمات زبان سے نکالے بلکہ ارادہ کفر بلکہ کفر سے رضا بھی کافر ہو جانے کے لئے کافی ہے۔ قال تعالیٰ: إذَا سَمِعْتُمُ ايْتِ اللهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثِ غَيْرِةَ إِنَّكُمْ إِذًا مِثْلُهُمْ - الآية یعنی جب تم اللہ کی آیتوں کو سنو کہ ان کا انکار کیا جاتا اور ان کی ہنسی بنائی جاتی ہے تو ان لوگوں کے ساتھ نہ بیٹھو جب تک وہ اور بات میں مشغول نہ ہوں اور نہ تم بھی انہیں جیسے ہو (1)۔ یہیں سے علماء فرماتے ہیں کہ : الرضا بالكفر كفر ) تو قطع نظر اس سے کہ وہ کلمات کفر تھے یا نہیں۔ زید کا اس شیعہ لڑکی سے نکاح کرنے کے لئے شیعہ کی یہ شرط منظور کرنا ہی کفر ہے۔ جس کی اجازت کسی حلال وجائز و صحیح نکاح کے لئے بھی نہ ہوتی چہ جائیکہ اس نام کے نکاح کے لئے بلکہ اس کے ارتکاب کے ساتھ ہر گز کوئی نکاح جائز وصیح نہیں ہوسکتا اور یہ عذر بدتر از گناہ ہے کہ لڑکی کے گھر والوں کو بدنامی سے بچانے اور ان کی عزت بچانے اور ان کی عزت رکھنے کے لئے الخ ۔ سبحان اللہ زید کے نزدیک لڑکی کے گھر والوں کی وہ جھوٹی دنیوی عزت اس قابل ٹھہری کہ اس پر ایمان اور اپنی حقیقی عزت جو اللہ کے نزدیک ہر مومن کی ہے قربان کر دی اور اہل سنت میں بھی بے عزت ٹھہرا۔ زید پر فرض ہے کہ تو بہ وتجدید ایمان کرے اور وہ لڑکی اگر شیعہ کے عقائد کفریہ مثل انکار محبت صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور قذف عائشہ اور نقص قرآن اور عصمت ائمہ اور خطائے جبریل در انزال وحی و غیر بارکھتی ہے تو مرتدہ ہے اس کا نکاح عالم میں کسی سے صحیح نہیں ۔ ،، در مختار میں ہے : " لا يصلح ان ینکح مرتد او مرتدة احدا من الناس مطلقا (۲) یونہی اگر وہ روافض کو مسلمان سمجھتی ہے تو یہی حکم ہے گو خود عقائد کفریہ نہ رکھتی ہو لہذا زید پر فرض ہے کہ اس سے فوراً علیحدہ ہو جائے اور اگر نہ خود عقائد کفریہ رکھتی نہ عقائد کفریہ رکھنے والوں کو مسلمان جانتی ہے تو اس سے کم نہیں کہ بد مذہب ہے اور بد مذہب کی ادنیٰ محبت خطرہ ایمان ہے تو اس رشتہ محبت و یگانگت میں کیا کچھ رنگ نہ لائیگی اور زید کا عالم یہ کہ پہلی ہی بار ایمان ہار گیا۔ لہذا ہرگز ہرگز اس سے ارادہ نکاح نہ کرے۔ اور ہم نے ارادہ نکاح نہ کرے یوں کہا کہ زید کا نکاح اس لڑکی سے اب سے پہلے (۱) کنز الایمان (1) رد المحتار، ج ۶، ص ۳۳۶، کتاب الجهاد مطلب فى تميز اهل الذمة، دار الكتب العلميه، بيروت (۲) الدر المختار باب نکاح الکافر، کتاب النکاح، ج ۴، ص ۳۷۶ دار الفکر، بیروت بہر حال باطل ہوا۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله الجواب صحیح واللہ تعالی اعلم صبح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم تحسین رضا الغفران قاضی عبدالرحیم بستوی غفرلہ