دیوبندیوں کو کافر نہ کہنا اور حرمین کے مفتیوں کی طرف ان کے عقائد منسوب کرنا
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ: زید کہتا ہے کہ وہابی دیوبندی تبلیغی جماعت وغیرہ کو کافر نہ کہنا اچھا ہے کیونکہ وہ بھی کلمہ کا شریک ہے اور زید کا یہ بھی قول ہے کہ حرمین شریف کے مفتی حضرات کا بھی وہی عقیدہ ہے جو عقیدہ دیوبندی وہابی تبلیغی کا ہے اور وہ یہ بھی کہتا ہے کہ حرمین شریفین کے مفتی نے کہا ہے کہ میرا بھی وہی عقیدہ ہے جو تبلیغی دیوبندی وہابی کا ہے کیا واقعی مفتیان حرمین کا وہی عقیدہ ہے اور زید کا قول صحیح ہے یا غلط ۔ جواب مرحمت فرمایا جائے ۔ عین نوازش ہوگی المستفتی: محمد ریاض الحق سنی جامع مسجد ، دھاری ، امر پٹی، گجرات ۱۸ / رمضان ۱۴۰۰ھ
فقیر محمد اختر رضا خاں قادری از هری غفرله دیو بندی اہانت خدا اور سول کے مرتکب اور ضروریات دین کے منکر ہیں ! منکر ضروریات دین کو کافر نہ کہنے کا زعم ، زعم باطل ہے جو قرآن عظیم کا انکار ہے! الجواب: زید کا قول ندارد و منیع ہے دیو بندی اہانت خدا اور سول جل وعلا وصلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے مرتکب اور ضروریات دین کے منکر ہو کر علمائے حرمین شریفین و مصر و ہند و سندھ سے اپنے کفر کا فتومی پاچکے اور ایسے کافر مرتد بے دین قرار پائے کہ جو اُن کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کافر ہے دیکھو حسام الحرمین و الصوارم الہندیہ (۱) تو زید بھی انہی کی رسی میں بندھا ہوا ہے اور یہ اس کا زعم باطل ہے کہ جو کلمہ کا شریک ہوا گر چہ کیسا ہی منکر ضروریات دین ہو اسے کافر نہ کہنا چاہئے یہ زعم خود قرآن عظیم کا انکار ہے قرآن عظیم نے ان وہابیہ و دیابنہ کے پیشر و منافقین کو جب انہوں نے وہابیہ زمانہ کی طرح نبی علیہ السلام کے متعلق بکا کہ ما یدریہ بالغیب کہ محمد علیہ السلام کو غیب کی کیا خبر، کفر کافتویٰ سنایا اور ان کا عذر نہ سنا، حیث قال : لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ - الآية (٢) اور مسجد کے وہابی ضرور دیابنہ تبلیغی جماعت کے ہم خیال ہیں اور ان کے شیخ پر علامہ زینی دحلان مکی مفتی شافعیہ بمکتہ الحمیہ نے کفر کا فتویٰ دیا چنانچہ اپنے رسالہ الاعلام با علام بلد الله الحرام میں فرماتے ہیں: والحاصل ان المحقق عندنا من اقواله وافعاله ما يوجب خروجه عن القواعد الاسلامية باستحلاله_الخ“ (۳) اور آج کل حرمین شریفین پر انہیں کا تسلط ہے زید کا انہیں مفتی بتا نا فریب ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرله ۲۳ / رمضان المبارک ۱۴۰۰ھ صح الجواب واللہ تعالیٰ اعلم قاضی محمد عبد الرحیم بستوی غفرلہ القوی