جماعت اسلامی کے باطل عقائد اور مودودی صاحب کے نظریات کا بیان
مدلل جواب تفصیل سے کتب کی روشنی میں تحریر فرمائیں۔
الجواب: المستفتی :محمد اختر علی خاں رضوی محلہ بدھ بازار قصبہ شاہ آباد ضلع ہر دوئی (1) نام نہاد جماعت اسلامی وہابیہ کا نیا روپ ہے اور ان کے وہی معتقدات ہیں جو اسمعیل دہلوی کے نام نہا و تقویۃ الایمان میں انبیاء اولیاء بالخصوص سید الانبیاء کے لئے لکھے۔ از انجملہ اسمعیل کا یہ قول ہے کہ: جس کا نام محمد یا علی ہے اس کو کسی بات کا اختیار نہیں (۱) اور : ”اللہ کی شان کے آگے ہر مخلوق بڑا ہو یا چھوٹا چوہڑے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے (۲) اور پوری غیر مقلدیت کا سبق یہ کہ : کسی کے حکم کی سند پکڑ نا شرک ہے“ ان دونوں مؤخر الذکر بولوں نے ہر کلمہ گو اور ہر اس شخص کو جوکسی امام کا مقلد ہومشرک بنادیا اور جو مسلمانوں کو کافر و مشرک بتائے وہ خود بحکم حدیث اور بحکم جماہیر فقہاء کافر ہے۔ تقویۃ الایمان میں اس کے علاوہ اور بھی بہت سے اقوال ناشائستہ ہیں اور مودودی صاحب کے اقوال کی تفصیل مودودی کا الٹا مذہب جماعت اسلامی وغیرہ کتاب اہل سنت میں ہے۔ ان کے اقوال باطلہ سے ایک قول وہ ہے جو انہوں نے تنقیحات میں تحریر کیا کہ کتاب وسنت کی تعلیم سب پر مقدم مگر تفسیر وحدیث کے فرسودہ ذخیروں سے نہیں“ یہ کھلا انکار مطلقاً تفسیر وحدیث کا ہے۔ اسی تنقیحات میں کہا: " قرآن فہمی کے لئے کسی تفسیر کی حاجت نہیں ایک اعلی درجہ کا پروفیسر کافی ہے“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ قرآن سمجھ لینا ہر کس و ناکس کا منصب بتا رہا ہے اگر چہ وہ لغت عرب و اسالیب کلام و ناسخ و منسوخ و محکم و متشابہ ومفسر و مجمل سے ناواقف ہو حالانکہ خداوند قدوس فرماتا ہے: وَمَا يَعْقِلُهَا إِلَّا الْعَلِمُونَ (۳) یعنی آیات الہی کو علماء ہی سمجھتے ہیں (1) تقویۃ الایمان ،ص۵۰، فیصل پبلیکیشنز (۲) تقویۃ الایمان ،ص ۲۲، فیصل پبلیکیشنز (۳) سورة العنكبوت: ۴۳ اور سب سے بڑھ کر تو یہ ہے کہ دیابنہ ( کہ تبلیغی جماعت انہیں کی شاخ اور انہیں کے عقائد کفریہ کی مبلغ ہے ) خدا و رسول جل وعلا وصلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کر کے علمائے حرمین سے کفر کا فتوی پاچکے اور اپنے حق میں یہ حکم سن چکے کہ جو ان کے عقائد کفریہ پر مطلع ہو کر انہیں کا فرنہ جانے بلکہ ان کے کفر و عذاب میں شک کرے وہ خود کا فر ہے اور یہ نام نہاد جماعت اسلامی انہیں مسلمان جانتی ہے تو علمائے حرمین کے فتویٰ سے ان کا وہی حکم ہے جو دیو بندیوں کا ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم اور علمائے دیو بند نے بھی انہیں کافر کہا ہے، جس کی تفصیل کتب اہل سنت میں ملے گی مجھے اس وقت مستحضر نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۲) نہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۳) یہ سب امور ناجائز و حرام بد کام بد انجام اور سب سے سخت انہیں بد مذہب جانتے ہوئے امام بنانا اور نمازیں برباد کرنا کہ اس پر بہ حکم فقہاء کفر لازم اور نمازوں کا اعادہ فرض ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۴) ایسے کو امام بنا نا حرام ۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۵) سخت گنہ گار مستحق نار وحق اللہ وحق العبد میں گرفتار ۔ تو بہ کرے۔ واللہ تعالیٰ اعلم (6) وہ جھوٹا دعوی کرتا ہے بے ثبوت شرعی کسی مسلمان کی طرف گناہ کی نسبت جائز نہیں۔ احیاءالعلوم میں ہے: ،، لا تجوز نسبة مسلم الى كبيرة من غير تحقيق اور دانستہ بہتان باندھنا اور سخت ہے اس پر لازم ہے کہ اپنے دعوی کا ثبوت شرعی بہم پہنچائے ور نہ تو بہ کرے اور اگر تو بہ نہ کرے تو مسلمان اسے چھوڑ دیں۔ واللہ تعالیٰ اعلم (۷) اعلیٰ حضرت کی کتب سے انکار بد مذہب کا کام ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم فقیر محمد اختر رضا خاں از هری قادری غفرلہ صح الجواب۔ قاضی محمد عبدالرحیم بستوی غفرلہ القوی دار الافتاء، منظر اسلام، بریلی شریف