غیر مسلم مشرک سے جادو اور سانپ کے زہر کا علاج کروانے اور ان کے منتروں کے استعمال کا شرعی حکم
سانپ بچھو یا جادو وغیرہ کا علاج کروانا اور اگر اس میں وہ خود اپنے مذہبی طور سے کرے مسلمان اس کے مذہبی طریقہ کو اختیار نہ کرے صرف وہ اس کے بنائے ہوئے گنڈہ کو استعمال کرے وہ مسلمان اگر کوئی فعل نہ کرے تو کیسا ہے ایسے مسلمان کو اس گنڈہ کا استعمال کرنا جائز ہے کہ نہیں اور اس پر حکم شرع کیا عائد ہوتا ہے آیا صرف حرام ہے یا کفر ہے اور اگر وہ مسلمان جھاڑ پھونک سے اسکی مدد لے یا روپیہ پیسہ نذر کرے تو ما ہے ایسے مسلمان سے تعلق رکھنا یا ان کے یہاں کھانا پینا میل جول رکھنا کیسا ہے۔ اور اس مسلمان کی اولاد سے تعلق رکھنا کیسا ہے اگر اس کے بیوی بچے سے تعلق وغیرہ رکھیں تو کیا حکم ہے ایسے باپ سے سے تعلق رکھنا اس کے ساتھ رہنا کھانا پینا کیسا ہے اور اسکی بیوی کیا کرے ۔ اس سے علیحدہ رہے یا اس کے ساتھ ۔ اولا در ہے اس کے یا جدا ہوں گے جو بھی حکم شرع ہو مفصل مدلل بیان دیگر عند اللہ ماجور ہوں۔ (۲) زید نے ایک بنگالی مشرک سے اپنا علاج جادو وغیرہ کا کرایا اس پر بکر نے اسے حکم شرع تجدید ایمان وغیرہ بیان کیا تو زید غصہ میں اسکا بنایا ہوا گنڈہ ہاتھ پیروں میں پہنے ہوئے تھا تو ڑ دیا تو اسکی وہی حالت ہوگئی جو پہلے رہتی تھی حالانکہ اس کے بعد استعمال سے وہ حالت ختم ہوگئی تھی تو وہ بکر کے حکم بیان کرنے پر کہنے لگا کہ اب تو ہم مسلمانیت سے نکل گئے ۔ فوٹوسینیما حرام ہے فوٹو کیمرہ بیچتے ہوتو کیا یہ جائز ہے؟ ایسے شخص کے لئے کیا حکم ہے ہر ہر بات کا مفصل جواب تحریر فرما ئیں سانپ بچھو کا زہر اس سے اتروانا کیسا ہے اور جادو آسیب کا علاج کرانا کیسا ہے دونوں باتیں زید سے متعلق ہیں نیز مسلمانوں کا ایسے سے تعلق رکھنا کیسا ہے زید کی بیوی بچے اس کے ساتھ رہیں مدد کریں یا نہیں وہ کیا کریں؟
الجواب: اغلب یہ ہے کہ کفار و مشرکین جھاڑ پھونک میں کفری منتر پڑھتے ہیں تو ان سے جھاڑ پھونک وغیرہ کرانا انہیں کفری کلمات بکنے پر آمادہ کرنا ہے اور یہ کفر سے رضا مندی ہے جو خود کفر ہے۔ علماء بالا تفاق فرماتے ہیں: الرضا بالكفر كفر (1) لہذا ان سے جھاڑ پھونک کر انا حرام بد انجام کفر انجام ہے اور اگر اس کے ساتھ کوئی کام کفر کا کیا تو یہ از خود بھی ارتکاب کفر ہوا اور کافر کا دیا ہوا گنڈہ وغیرہ پہننا حرام اور اس کے لئے کافر کو امداد دینا حرام حرام بد کام بدانجام ہے ایسے شخص پر تو بہ وتجدید ایمان و تجدید نکاح لازم ہے ورنہ ہر واقف حال مسلم پر فرض ہے کہ اسے چھوڑ دے اس سے میل جول رکھنا اس کے ساتھ کھانا پینا حرام ہے بیوی کو اس سے احتر از لازم ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم